تاثیر،۱۵ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
تل ابیب،15 اپریل :ایران کے حملے کے جواب میں اسرائیل کے پاس کئی ممکنہ آپشنز ہیں اور فی الحال حالتِ جنگ کے دوران بنائی گئی کابینہ ان آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ دوسری طرف برطانیہ اور جرمنی سمیت مغربی اتحادیوں نے اسرائیل کو تحمل کا مشورہ دیا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔جہاں ایک طرف مغربی اتحادی اسرائیل کو ایران کے خلاف جوابی حملہ نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہیں بعض امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ملکوں میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر اعتراضات پائے جاتے ہیں۔اسرائیل دنیا میں ہتھیار برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے لیکن جس طرح سے اس کی فوج نے درآمد شدہ طیاروں، گائیڈڈ بموں اور میزائلوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوئے غزہ میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران جو کارروائی کی ہے اسے ماہرین نے حالیہ تاریخ کی سب سے شدید اور تباہ کن فضائی مہمات میں سے ایک قرار دیا ہے۔امریکہ اور جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہیں۔ اس تحریر میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کون سے ملک اسرائیل کی دفاعی مدد کرتے ہیں۔
خیال ہے کہ ایران کے حملے کے جواب میں اسرائیل کے پاس کئی ممکنہ آپشنز ہیں اور فی الحال حالتِ جنگ کے دوران بنائی گئی کابینہ ان آپشنز پر غور کر رہی ہے۔اسرائیلی ذرائع نے نامہ نگاروں کو بریف کیا ہے کہ ایران کی طرف سے 300 ڈرون اور میزائل داغے گئے مگر اب اسرائیل اس قدر وسیع پیمانے کے حملے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔بعض اسرائیلی سیاستدان چاہتے ہیں کہ ایران کو ٹھوس پیغام دیا جانا چاہیے تاکہ ایران دوبارہ ایسے حملے نہ کرے۔جنگ کی کابینہ کے بعض ارکان کی رائے ہے کہ یہ ایران کے خلاف ’علاقائی اتحاد‘ کو مضبوط کرنے کا موقع ہے کیونکہ امریکہ، برطانیہ، اردن اور دیگر اتحادیوں نے ایرانی حملے کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران نے اس کی فضائیہ کے اڈے ’نواتیم‘ سمیت اہم عمارتوں پر حملے کی کوشش کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اسرائیل کے سٹیلتھ جنگی طیارے موجود ہیں۔ تاہم ایرانی حملے کو بروقت روک لیا گیا۔

