پہلگام حملے کے بعد بھارت کی حکمت عملی

تاثیر 30  اپریل ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

جنوبی کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے نے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئےتھے، بھارت کی سیکیورٹی پالیسی اور خارجہ حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ اس حملے کے بعدپی ایم نریندر مودی کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس، کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی (سی سی ایس) کی ہنگامی میٹنگ اور پاکستانی اقدامات کے خلاف سخت فیصلوں نے نہ صرف بھارت کی داخلی سیکیورٹی پالیسی کو اجاگر کیا بلکہ اس کی علاقائی پوزیشن کو بھی نمایاں کیا ہے۔چنانچہ بھارت کی حالیہ پالیسیوں، اس کے ممکنہ اثرات، اور مستقبل کے امکانات پوری دنیا کی نظر ہے۔
پہلگام حملہ، جس میں زیادہ تر سیاح نشانہ بنے، اس وقت ہوا جب جموں و کشمیر میں حالیہ انتخابات کامیابی سے مکمل ہوئے اور خطہ معاشی ترقی کی جانب گامزن تھا۔ یہ حملہ نہ صرف سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج تھا بلکہ بھارت کی داخلی استحکام کی کوششوں پر بھی ایک کاری ضرب تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس حملے کے تار سرحد پار سے منسلک ہیں، جو پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس تناظر میں، پی ایم مودی نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی بھارت کا قومی عزم ہے۔ انہوں نے مسلح افواج کو ردعمل کے طریقہ کار، ہدف اور وقت کے تعین میں مکمل آزادی دینے کا اعلان کیا ہے، جو ایک جارحانہ اور فیصلہ کن پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔دوسری جانب
حملے کے فوراً بعد، بھارتی حکومت نے کئی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے۔پی ایم کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں وزیردفاع راجناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال، اور تینوں فوجی سربراہان سمیت چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان شریک تھے۔ اس کے علاوہ، کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی نے پانچ اہم فیصلے کیے، جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری چیک پوسٹ کی بندش، پاکستانی شہریوں کے لیے سارک ویزا کی منسوخی اور پاکستانی ہائی کمیشن کے فوجی مشیروں کو ملک چھوڑنے کا حکم شامل ہیں۔ یہ فیصلے پاکستان کے خلاف سفارتی اور معاشی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ویسے پہلگام حملے اور اس کے نتیجے میں بھارت کے سخت اقدامات نے پاک بھارت تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی ایک غیر معمولی فیصلہ ہے، کیونکہ یہ معاہدہ 1960 سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کے وسائل کے منصفانہ استعمال کی ضمانت دیتا ہے۔ اس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کے زرعی اور معاشی شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح، اٹاری چیک پوسٹ کی بندش اور سارک ویزا کی منسوخی سے دونوں ممالک کے درمیان سفری اور تجارتی روابط مزید محدود ہو جائیں گے۔
حملے کے بعد بھارت کی داخلی سیاست میں غیر معمولی ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔ آل پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی کسی بھی کارروائی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ یہ اتفاق رائے بھارت کے سیاسی منظرنامے میں ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ دہشت گردی جیسے حساس معاملات پر سیاسی تقسیم اکثر حکومتی فیصلوں کو کمزور کرتی ہے۔ تاہم، یہ ہم آہنگی طویل مدتی پالیسیوں کے نفاذ تک برقرار رہتی ہے یا نہیں، یہ ایک اہم سوال ہے۔ویسے بھارت کی موجودہ پالیسی ایک دوہری حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے: ایک طرف داخلی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے فوجی اور انتظامی اقدامات اور دوسری طرف پاکستان پر سفارتی اور معاشی دباؤ۔ تاہم، اس حکمت عملی کے کچھ خطرات بھی ہیں۔ پاکستان کے خلاف سخت اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور اگر عالمی برادری نے ان اقدامات کی حمایت نہ کی تو بھارت سفارتی تنہائی کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔حالانکہ جموں و کشمیر میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے سیکیورٹی کے پائیدار حل ناگزیر ہیں۔
بہر حال پہلگام حملے نے بھارت کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔پی ایم نریندرمودی کی قیادت میں بھارت نے ایک جارحانہ اور فیصلہ کن پالیسی اپنائی ہے، جو داخلی استحکام اور خارجی دباؤ دونوں کو متوازن کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بھارت کس طرح سفارتی، فوجی اور معاشی چیلنجوں سے نمٹتا ہے۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں، لیکن موجودہ حالات میں یہ ایک دور از کار امکان نظر آتا ہے۔