بھارت کا مضبوط موقف

تاثیر 3 مئی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

جنوبی ایشیا میں امن کی کوششیں پاکستان کی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں کی وجہ سے شدید خطرے میں ہیں۔ پاکستان نے ’ایکسرسائز انڈس‘ کے نام سے ابدالی میزائل سسٹم کا تجربہ کیا ہے، جو بھارت کے خلاف واضح اشتعال انگیزی ہے۔ یہ تجربہ پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد بھارت پاکستان تناؤ کے نازک موڑ پر کیا گیا ہے، جو پاکستان کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ 450 کلومیٹر رینج کا یہ میزائل پاکستان کی جارحانہ عسکری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بھارت نے اس حملے کے جواب میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی، پاکستانی ویزوں کی منسوخی، واہگہ اٹاری سرحد کی بندش اور پاکستانی سفارت کاروں کو نکالنے جیسے سخت اقدامات کئے ہیں۔ یہ اقدامات بھارت کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لئے ناگزیر ہیں۔
پاکستان کی فوجی سرگرمیاں، جن میں بحری مشقیں، کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور اب یہ میزائل تجربہ شامل ہیں، اُس کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی یہ حرکتیں اندرونی سیاسی دباؤ اور عالمی تنہائی سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔ پاکستان کی معاشی بدحالی، دہشت گردی کی حمایت اور کمزور سفارتی ساکھ اسے ایسی کارروائیوں پر مجبور کر رہی ہے، جو خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ اس کے برعکس، بھارت اپنی معاشی ترقی، عسکری طاقت اور اخلاقی برتری کے ساتھ خطے میں ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔بھارت کا ردعمل نہ صرف جائز بلکہ اس کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی ایک طاقتور پیغام ہے کہ بھارت دہشت گردی یا اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کرے گا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے پانی کے وسائل کے حوالے سے اہم ہے، اور اس کی معطلی نے پاکستان کی اسٹریٹجک کمزوری کو بے نقاب کیا ہے۔ بھارت کے دیگر اقدامات، جیسے کہ سرحدی بندش اور سفارتی دباؤ، پاکستان کو یہ باور کرانے کے لئے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی حمایت بند کرے۔ بھارت کی یہ مضبوط پوزیشن عالمی برادری میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔
عالمی برادری کو پاکستان کی غیر ذمہ دارانہ حرکات پر سخت موقف اپنانا چاہئے۔ اقوام متحدہ اور دیگر طاقتوں کو بھارت کے جائز خدشات کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کو ایسی کارروائیوں سے روکنا چاہئے۔ پاکستان کی مسلسل جارحیت اسے عالمی سطح پر مزید تنہا کرے گی، جبکہ بھارت اپنی مضبوط معیشت اور سفارتی حکمت عملی کے ذریعے خطے میں استحکام کا ضامن بن رہا ہے۔ بھارت کی دفاعی تیاریاں، جیسے کہ جدید ہتھیاروں کی تنصیب اور سرحدی نگرانی، اس کی قومی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔تاہم، بھارت کو سفارتی چینلز کو کھلا رکھنا چاہئے تاکہ تناؤ کو غیر ضروری طور پر نہ بڑھنے دیا جائے۔ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل خطے کے طویل مدتی استحکام کے لیے اہم ہے۔ بھارت کی متوازن حکمت عملی، جو دفاعی تیاریوں اور سفارتی کوششوں کا امتزاج ہے، اسے خطے میں ایک ذمہ دار لیڈر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسی اشتعال انگیز حرکتیں، اسے عالمی برادری میں مزید کمزور کریں گی۔
بھارت کو اپنی قومی سلامتی کو مضبوط کرتے ہوئے عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کی جارحیت کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، وہ امن کے امکانات کو کھلا رکھے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی نہ صرف اس کے قومی مفادات کی حفاظت کرے گی بلکہ خطے میں ایک مستحکم مستقبل کی بنیاد بھی رکھے گی۔ پاکستان کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں اسے عالمی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں، جبکہ بھارت اپنی ترقی، استحکام اور عالمی ساکھ کے ساتھ ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
*****