تاثیر 12 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
برازیلیا، 12 ستمبر: برازیل کی سپریم کورٹ نے ملک کے سابق صدر جیر بولسونارو کو 2022 کے انتخابات کو الٹانے کی سازش کی قیادت کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ اس میں عدالتوں کو تحلیل کرنا، فوج کو بااختیار بنانا اور منتخب صدر کو قتل کرنے کی سازش شامل ہے۔ کیس کی سماعت پانچ ججز نے کی۔ ان میں سے چار نے بولسونارو اور سات ساتھی سازش کاروں کو مجرم ٹھہرایا، جن میں ان کے ساتھی وزیر دفاع اور نیول کمانڈر بھی شامل ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے جمعرات کو 70 سالہ بولسونارو کو 27 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی۔ برازیل میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد سے فوج نے کم از کم 15 مرتبہ بغاوت کی کوششیں کی ہیں۔ برازیل میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق صدر کو ایسے کیس میں سزا سنائی گئی ہے۔ بولسونارو کو دائیں بازو کی تحریک کا رہنما سمجھا جاتا ہے۔
اس فیصلے سے برازیل اور امریکہ کے درمیان تنازعہ بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے برازیل سے بولسونارو کے خلاف الزامات واپس لینے کا بار بار مطالبہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی بھاری محصولات لگا کر برازیل پر دباؤ ڈالا۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا لیکن عدلیہ نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ ججوں نے سابق صدر پر الزام لگاتے ہوئے مداخلت کی امریکی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

