تاثیر 25 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) جمعہ کی رات روہتاس ضلع کے سہسرام سے ایک انتہائی حساس معاملہ سامنے آیا جہاں ڈیلیوری کے بعد نوزائیدہ بچے کی موت نے اسپتال انتظامیہ کی لاپرواہی کو بے نقاب کردیا ہے ۔ شہر میں لال گنج نہر کے قریب واقع سمرپن اسپتال میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب صدر ایس ڈی ایم ڈاکٹر نیہا کماری نے بھاری پولس فورس کے ساتھ اچانک وہاں چھاپہ مارا ۔ اطلاعات کے مطابق سہسرام کے جی ایس ٹی دفتر میں کام کرنے والی خاتون افسر جیوتی کماری کو ڈلیوری کیلئے سمرپن اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، اس کے نوزائیدہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ہی اسکی موت بھی ہو گئی ۔ افسر نے ہسپتال انتظامیہ پر سنگین لاپرواہی اور ناکافی علاج کا الزام لگایا ہے ۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم ڈاکٹر نیہا کماری نے صدر ڈی ایس پی کمار ویبھو کے ساتھ اسپتال احاطہ کا معائنہ بھی کیا اور اسپتال کے دستاویزات، طبی سہولیات اور ڈیوٹی پر موجود عملے کے بارے میں دریافت کیا ۔ ایس ڈی ایم کی اس کارروائی سے اسپتال کے عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ ڈی ایس پی کمار ویبھو نے بتایا کہ بچے کی موت کی وجہ اور ہسپتال کے آپریٹنگ طریقہ کار کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے ۔ اگر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کوئی غفلت یا ضابطے کی خلاف ورزی پائی گئی تو ہسپتال کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی اور اس کا لائسنس بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے ۔ واقعہ کے بعد علاقہ مکینوں میں پرائیویٹ ہسپتالوں کے من مانی رویے پر کافی برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔

