واشنگٹن گالا ڈنر فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماوں کا ردِ عمل

تاثیر 26 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،26اپریل:۔واشنگٹن میں ہفتہ کی رات ایک بارونق عشائیے کے موقع پر ایک حملہ آور نے فائرنگ کر دی جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ موجود تھے۔ اس واقعے کے بعد عالمی رہنماو¿ں نے صدمے کا اور ساتھ ہی اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے کہا کہ “ایک شاٹ گن، ایک ہینڈگن اور متعدد چاقو” سے لیس واحد مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا اور اسے پیر کو وفاقی عدالت میں الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔عالمی راہنماوں نے اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے:نریندر مودی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہیں یہ جان کر اطمینان ہوا کہ صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور نائب صدر سلامت اور نقصان سے محفوظ رہے۔مودی نے ایکس پر لکھا، “میں ان کی مسلسل حفاظت اور بہبود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اس کی واضح طور پر مذمت ہونی چاہیے۔کیئر سٹارمر:برطانیہ کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ “گذشتہ رات واشنگٹن میں وائٹ ہاو¿س کے نامہ نگاروں کے عشائیے کے مناظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔سٹارمر نے اتوار کو ایکس پر لکھا، “جمہوری اداروں یا آزادی صحافت پر کسی بھی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔”بنجمن نیتن یاہواسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ سارہ کو صدر ٹرمپ کے “قتل کی کوشش پر صدمہ پہنچا۔”نیتن یاہو نے ایکس پر لکھا، “ہمیں خوشی ہے کہ صدر اور خاتونِ اول محفوظ اور مضبوط ہیں۔ ہم زخمی پولیس افسر کی مکمل اور جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور امریکی خفیہ سروس کو ان کے تیز اور فیصلہ کن اقدام پر سلام پیش کرتے ہیں۔”عمانویل میکرونفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ناقابلِ قبول ہے،