تاثیر 7 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ) سمری تھانہ حلقہ کی ایک خاتون نے اپنے شوہر اور سسرال والوں پر دوسری شادی کی تیاری کرنے، جہیز کے لیے ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے سِمری تھانہ میں درخواست دے کر انصاف کی گہار لگائی ہے متاثرہ خاتون پھول کماری دیوی نے تھانہ انچارج کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ اس کی شادی سال 2011 میں ہندو رسم و رواج کے مطابق وکی یادو کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے بعد کچھ وقت تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا، لیکن بعد میں سسرال والوں کا رویہ بدل گیا۔
خاتون کا الزام ہے کہ اس کے سسر کشوری یادو، شوہر وکی یادو سمیت خاندان کے دیگر افراد جہیز میں 50 ہزار روپے کا مطالبہ کرنے لگے۔ مطالبہ پورا نہ ہونے پر اس کے ساتھ گالی گلوج، مارپیٹ اور ذہنی ہراسانی کی جاتی ہے۔خاتون نے درخواست میں کہا ہے کہ اسے کئی بار کھانا نہیں دیا گیا اور گرم پانی ڈال کر ہراساں کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ مسلسل ظلم و ستم کے باعث وہ اپنے میکے چلی گئی۔ بعد میں خاندانی سمجھوتے کے بعد وہ دوبارہ شوہر کے ساتھ دہلی میں رہنے لگی، لیکن وہاں بھی ہراسانی جاری رہا
متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ اسی دوران اس کے شوہر نے اس سے دوری بنا لی اور اب خاندان والے مل کر اس کی دوسری شادی کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ درخواست میں ذکر کیا گیا ہے کہ مظفرپور ضلع کے تیرسی تھانہ علاقے میں شادی کی بات چیت چل رہی ہے۔خاتون کا کہنا ہے کہ جب اس کے اہل خانہ نے دوسری شادی کی مخالفت کی تو انہیں دھمکی دے کر بھگا دیا گیا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخالفت کرنے پر پستول دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔متاثرہ خاتون نے انتظامیہ سے شوہر وکی یادو، سسر کشوری یادو اور دیگر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور دوسری شادی رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں انچارج تھانہ صدر ششی شنکر نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کی درخواست پر سمری تھانے میں ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے

