! امن کی فتح ہی حقیقی فتح ہے

تاثیر 08 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

  اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ لبنان کی دارالحکومت بیروت پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی کارروائی کی ہے، جبکہ اسرائیل نے تہران، تبریز اور اصفہان سمیت اہم فوجی ٹھکانوں پر حملے کر کے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایران نے بھی شمالی اسرائیل پر جوابی حملے کیے ہیں۔ یہ تصادم نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی معیشت کے لئے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر واضح مطالبہ کیا کہ ’’اسرائیل اور ایران فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے بند کریں‘‘۔ ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کر کے حملہ نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، مگر نیتن یاہو نے ان کی بات نہیں مانی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ خود تمام فیصلے کر رہے ہیں اور نیتن یاہو کے پاس امریکہ وایران معاہدے کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فٹکار بھی لگائی تھی جب اسرائیلی فوج نے ان کی ثالثی میں طے پانے والے سیز فائر کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جارحیت جاری ہے جبکہ ایران دفاعی اقدام کر رہا ہے۔
بھارت نے بھی صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے تہران میں اپنے سفارتخانے کے ذریعے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ بھارتی شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے اور وہاں موجود افراد کو فوری طور پر دستیاب ذرائع نقل و حمل سے واپس آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طلبہ، تجار ، زائرین اور دیگر بھارتی شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ آٹھویں ایڈوائزری ہے، جو بتاتی ہے کہ علاقائی تناؤ کس قدر شدید ہو چکا ہے۔
تاریخ کے سبق آموز حوالوں سے بیشتر مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگوں نے کبھی مستقل حل نہیں دیا ہے۔ ہر بار لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں، شہر تباہ ہوئے، معاشیں برباد ہوئیں اور علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔ موجودہ تصادم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایران، جو علاقائی طاقت ہے، اپنے دفاع اور خودمختاری کی حفاظت کے لئے مجبور ہے۔ اسرائیل کی طرف سے مسلسل جارحیت، لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیاں اور ایران کے خلاف دباؤ اس تنازع کی اصل جڑ ہیں۔ چنانچہ اس جنگ سے سب متاثر ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی شہری خوفزدہ ہیں، ایرانی عوام معاشی دباؤ اور بمباری کا شکار ہیں، جبکہ پورا علاقہ انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، آبنائے ہرمزجیسے اہم راستے خطرے میں ہیں اور عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہورہی ہے۔ غریب ممالک اور ترقی پذیر معاشروں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔
بھارت جیسے ممالک، جو خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں، شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ایران میں ہزاروں بھارتی شہری موجود ہیں اور علاقائی جنگ ان کی جان و مال کے لئے خطرہ ہے۔ بھارت نے ہمیشہ سفارتی حل کی حمایت کی ہے اور اس بار بھی اسی راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔لہٰذا،  اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی طاقتوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں۔ ٹرمپ کی ثالثی کی کوششوں کو مزید مضبوط کیا جائے اور دونوں فریقوں کو میز پر لانے کی سنجیدہ کاوش کی جائے۔ ایران نے بار بار یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے مگر اپنے حقوق اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسرائیل کو بھی جارحیت روکنی چاہئے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔
اس حقیقت سے بھلا کون واقف نہیں ہے کہ جنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوتا؟ یہ صرف تباہی، غربت، نقل مکانی اور نسل کشی کا باعث بنتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ مکالمہ، سفارتکاری اور باہمی احترام ہے۔چنانچہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر مؤثر سیز فائر کا مطالبہ کرے، انسانی امداد کو یقینی بنائے اور سیاسی حل کی طرف پیش قدمی کرے۔ اسرائیل-ایران تنازعہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری انسانیت کے لیے چیلنج ہے۔ اگر آج امن کی راہ نکال لی گئی تو کل کی ممکنہ تباہی سے سب محفوظ رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی قیادت حکمت، انصاف اور انسانی اقدار کے ساتھ آگے آئے اورفریقین کو باور کرائے کہ امن کی فتح ہی حقیقی فتح ہے۔
*********