امن کی راہ میں پھر رکاوٹیں

تاثیر 20 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مغربی ایشیامیں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر شدید دھچکا لگا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان 111 دن کی خونریز جنگ کے بعد طے پانے والے معاہدے کے سامنے جنوبی لبنان پر اسرائیل کے تازہ حملےسنجیدہ سوال کی مانند کھڑ ےہوگئےہیں۔تازہ رپورٹس کے مطابق کل اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں متعدد ٹھکانوں پر فضائی اور ڈرون حملے کیے، جن میں 18 سے زائد لبنانی شہری جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب حزب اللہ کے جواب میں اسرائیلی فوج کے چار فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان مستقل امن کی بات چیت ملتوی ہو گئی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا بنیادی مقصد تمام محاذوں پر جنگ روکنا اور لبنان کی خودمختاری کا احترام تھا۔ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہوئی تھی اور ابتدائی 60 دن تک بغیر کسی ٹول ٹیکس کے محفوظ راستے کی ضمانت دی گئی تھی۔ عالمی شپنگ اور توانائی کی صنعتوں نے اسے مثبت پیش رفت سمجھا تھا۔ مگر اسرائیل نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے فوجی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا موقف ہے کہ حزب اللہ کا خطرہ ختم ہونے تک جنوبی لبنان میں 10 کلومیٹر کا بفر زون برقرار رہے گا اور شمالی اسرائیل کے شہریوں کی حفاظت کےلئےکارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسرائیل کا یہ مؤقف اس کی طویل مدتی سلامتی سے متعلق خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ حزب اللہ کو ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہ   قرار دیتے ہوئے اسرائیل کہتا ہے کہ یہ گروہ اس کی شمالی سرحد پر مسلسل خطرہ ہے۔ تاہم، اس کارروائی کے نتیجے میں عام شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی اور عوامی صحت کے وزارت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حملوں کا شکار زیادہ تر عام لوگ ہیں۔ یہ صورتحال انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امن پسند حلقوں کے لئے سنگین تشویش کا باعث ہے۔
اِدھرایران نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان پر قبضہ اور حملوں کے بند ہوئے بغیر کوئی مستقل امن ممکن نہیں ہے۔ اس نے کل 19 جون کو ہونے والے جنیوا مذاکرہ میں شرکت میں تاخیر کا باعث بھی اسرائیلی جارحیت کو قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے اتحادی اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کا اظہار کیا ہے، البتہ نائب صدر جے ڈی وینس نے آبنائے ہرمز کے مستقبل ٹول ٹیکس کے بارے میں واضح جواب دینے سے گریز کیا ہے، جس سے عالمی تیل کی منڈیوں میں ایک بار پھر غیر یقینی پھیل گئی ہے۔ظاہر ہے،یہ صورتحال علاقائی استحکام کے لئے بڑا امتحان ہے۔ ایک طرف امریکا اور ایران جیسے بڑی طاقتوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ امن کی امید بندھا رہا تھا، دوسری طرف اسرائیل کی یک طرفہ کارروائی اس معاہدے کی ساکھ کو کمزور کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریقین، اسرائیل، لبنان، ایران اور امریکا، ایک میز پر نہیں بیٹھتے ہیں تو تازہ جھڑپیں بڑے پیمانے پر تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
موجودہ صورتحال عوام حامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ متاثر عام شہری اور مزدور طبقہ ہو رہا ہے۔ لبنان میں شہریوں کی اموات، زخمیوں کی بڑھتی تعداد اور معاشی سرگرمیوں کا رک جانا انسانی المیے کی داستان ہے۔ ہرمز آبنائے پر ٹول ٹیکس کا تنازع عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور غریب ممالک کی معیشتوں پر دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
اس صورتحال کا واحد حل جامع مکالمہ اور سفارتی کوششیں ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو لبنان کی خودمختاری کا احترام یقینی بنانے، شہریوں کے تحفظ اور تمام فریقین کے جائز تحفظات کو حل کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔ اسرائیل کو بھی سمجھنا ہوگا کہ سلامتی صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ پائیدار امن سے ملتی ہے۔ویسے پوری دنیا جانتی ہے کہ مغربی ایشیا کےعوام صدیوں سے جنگ و جدال کی بھٹی میں جھلستے آ رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ رہنما خونریزی کی بجائے امن کی راہ اختیار کریں۔ امریکا اور ایران امن معاہدے کو کامیاب بنانے کے لئے اسرائیل، ایران اور امریکا کو لچک دکھانی ہوگی۔ ورنہ موجودہ حالات خود کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اور امن کو بھی شدید نقصان پہنچائیں گے۔چنانچہ دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائےکہ امن کی راہ مشکل ضرور ہے مگر اس کے سوا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔
**************