فیض کو انصاف دلانے کے لیے ہزاروں افراد کا کینڈل مارچ

تاثیر 21 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ(فضاامام): فیض احمد کو انصاف دلانے کے مطالبے پر جمعہ کی شام 6 بجے شہر میں ایک عظیم الشان کینڈل مارچ نکالا گیا۔ مارچ کا آغاز فیض کے گھر پرانی منصفی، مولا گنج، ناکہ نمبر 5، مرزاپور سے ہوا اور دربھنگہ ٹاور پہنچ کر ایک عوامی جلسے میں تبدیل ہو گیا۔ اس دوران نوجوانوں، خواتین، بزرگوں سمیت ہزاروں افراد نے ہاتھوں میں شمعیں تھام کر فیض کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم، جمال حسن، صبغۃ اللہ عرف ڈبّو خان، امتیاز نورانی، تمنّے مکھیا جی، امام الحق، حبیب اصغر، حافظ نصیر، کونسلر فیروز، شاہد رب، شیام بھارتی اور شرد جی سمیت دیگر مقررین نے مطالبہ کیا کہ پولیس اس معاملے کی غیرجانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرے اور مرکزی ملزم کو ریمانڈ پر لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے۔ مقررین نے ملزم کے موبائل فون کا کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) حاصل کرنے، متعلقہ ایجنسی کے کھلنے کے وقت سے لے کر فیض کے قتل تک کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے اور اس فوٹیج کی فارنسک سائنس لیبارٹری (FSL) سے جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔مظاہرین نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی اور شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو انہیں بھی فوری طور پر گرفتار کرکے ریمانڈ پر لیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی مقدمے کی اسپیڈی ٹرائل کے ذریعے جلد سماعت کر تمام مجرموں کو سخت ترین سزا، حتیٰ کہ سزائے موت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔کینڈل مارچ میں شریک ہزاروں افراد نے ایک آواز میں “فیض کو انصاف دو” کے نعرے لگائے اور کہا کہ “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔” مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر دربھنگہ پولیس ایک ہفتے کے اندر غیر جانبدارانہ تحقیقات مکمل کرکے فیض اور اس کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کی سمت میں مؤثر کارروائی نہیں کرتی، تو احتجاج کو مزید وسیع اور شدت دی جائے گی۔جلسے کے اختتام پر شرکاء نے دربھنگہ پولیس سے مطالبہ کیا کہ مقدمے کی شفاف
اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے تمام ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے کو سرد خانے کی نذر کرنے کی کوشش کی گئی تو انصاف کے حصول کے لیے دربھنگہ کی سڑکوں پر اس سے بھی بڑا عوامی احتجاج کیا جائے گا۔