تعلیم ہی نوجوانوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر تک پہنچا سکتی ہے: انجم فرقان

تاثیر 23 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ آتشزدگی میں جاں بحق معصوم بچوں کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار: ڈاکٹر آرزو
دربھنگہ،(فضاامام):متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس، دربھنگہ کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سیمینار ہال میں منعقدہ ایک خصوصی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دبئی چیپٹر کے خازن جناب انجم فرقان نے طلبہ و طالبات کو تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم انسان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ یہ نہ صرف علم فراہم کرتی ہے بلکہ شخصیت سازی، خود اعتمادی، اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داریوں کے شعور کو بھی فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اپنے مقاصد کو واضح رکھیں اور محنت، نظم و ضبط اور مثبت سوچ کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہیں۔انجم فرقان نے کہا کہ موجودہ عالمی مسابقتی دور میں معیاری تعلیم اور ہنرمندی کامیابی کی بنیادی کنجی ہیں۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، ابلاغی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کر سکیں۔ اس موقع پر طلبہ نے تعلیم، کیریئر سازی، بیرونِ ملک روزگار کے مواقع اور ہنر مندی سے متعلق مختلف سوالات کیے جن کے جوابات مہمانِ خصوصی نے تفصیل سے دیے۔ انہوں نے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ عملی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کی بھی تلقین کی۔ ادھر لکھنؤ آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے انتقال پر ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل نصیب کرے۔ ادارے کی جانب سے جاں بحق بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ پروگرام میں ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو نے مہمانِ خصوصی کا پگ، شال اور یادگاری نشان پیش کرکے استقبال کیا، جبکہ پروگرام کی نظامت ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے انجام دی۔ جنرل منیجر شمشاد نور نے مہمانِ خصوصی اور تمام طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے بغیر زندگی تاریکی سے عبارت ہے اور انجم فرقان کی رہنمائی طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اور اساتذۂ کرام موجود تھے، جن میں ڈاکٹر سمرن تیواری، شمسن خاتون، پرنسپل گوپی کشن، مہناز احمد اور رقیہ پروین شامل تھیں۔