محرم کے چوکی ملن میں نوجوان پر جان لیوا حملہ، مقدمہ درج، ایک گرفتار

تاثیر 26 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ)سمری تھانہ علاقے کے کنسی گاؤں میں محرم کی نویں تاریخ کے کھیل اور چوکی ملن کے دوران ایک نوجوان پر ہوئے جان لیوا حملے کے معاملے میں سمری تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ادھر شدید زخمی نوجوان کا علاج دربھنگہ کے ایک نجی اسپتال میں جاری ہے، جہاں اس کی حالت نازک بنی ہوئی ہے یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر تقریباً بارہ بجے سمری تھانہ علاقے کے کنسی گاؤں واقع بڑھیا بتھان چوک کے قریب پیش آیا۔ زخمی نوجوان کی شناخت کنسی گاؤں وارڈ نمبر 4 کے مرحوم محمد اشفاق انصاری کے 26 سالہ بیٹے محمد زاہد انصاری کے طور پر ہوئی ہے اس معاملے میں گاؤں کے ہی وارڈ نمبر 7 رہائشی محمد علی حسین کے بیٹے محمد شاہد (25)، محمد صابر حسین (27) سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے متاثرہ نوجوان کے بڑے بھائی محمد شاہد کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ جمعرات کو محرم کا کھیل اور چوکی ملن جاری تھا۔ اسی دوران ان کا چھوٹا بھائی محمد زاہد، جس کے دائیں ہاتھ پر تقریباً 25 روز قبل چوٹ لگنے کے باعث پلاسٹر چڑھا ہوا تھا، چوکی ملن دیکھنے کے لیے کھڑا تھا۔ الزام ہے کہ اسی دوران محمد شاہد، محمد صابر حسین اور دیگر افراد نے ہاکی اسٹک اور لکڑی کے مُنگدر سے اس کے سر اور جسم پر  حملے کر دیے جس سے وہ شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی بے ہوش ہو گیا واقعے کے بعد موقع پر افرا تفری مچ گئی۔ مقامی لوگوں نے زخمی نوجوان کو پہلے ڈی ایم سی ایچ دربھنگہ پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے اللپٹی کے ایک نجی اسپتال ریفر کر دیا اہل خانہ کے مطابق محمد زاہد اس وقت کوما میں ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد زاہد تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اور ممبئی کی ایک کمپنی میں مزدوری کرتے تھے۔ تقریباً 25 روز قبل کام کے دوران ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا تھا، جس کے بعد وہ اپنے گاؤں واپس آئے تھے ادھر سمری تھانہ کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کلیدی ملزم محمد شاہد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کی تھانہ انچارج اروند کمار نے خود کر رہے ہیں، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپہ ماری کر رہی ہے