تاثیر 29 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ٹھاکرگنج (محمد شاداب غیور)
ٹھاکرگنج شہر میں سوموار کے روز کانگریس کارکنوں نے تعلیمی نظام، مہنگائی اور امن و قانون کی صورتحال کے خلاف مرکزی حکومت اور بہار حکومت کے خلاف احتجاجی پیدل مارچ نکالا۔ کانگریس رہنما محمد سلیم کی صدارت میں مستان چوک سے ڈی ڈی سی مارکیٹ تک نکالے گئے مارچ میں کارکنوں نے بینر اور تختیاں اٹھا کر حکومت مخالف نعرے لگائے۔ ڈی ڈی سی مارکیٹ پہنچنے کے بعد مرکزی حکومت، بہار حکومت اور ریاست کے وزیرِ تعلیم کا علامتی پتلا نذرِ آتش کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے موجود کانگریس لیڈران نے باری باری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ضروری اشیاء، ایل پی جی گیس اور خوردنی سامان کی قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے تعلیمی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کے بجائے حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ احتجاج کے دوران کانگریس رہنماؤں نے ریاست میں بگڑتی ہوئی امن و قانون کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ جرائم میں اضافہ ہونے سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔ کارکنوں نے “مہنگائی کم کرو”، “تعلیم بچاؤ” اور “عوام مخالف پالیسیاں واپس لو” جیسے نعرے لگائے اور عوامی مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ضلع نائب صدر سہیل اختر سہیل عرف راجہ، پردیپ کمار یادو، گنیش رائے، ابھیئے سنگھ، محمد سلیمان، انوارالحق، سرفراز، محمد منا، محمد جنید عالم، محمد صابر عالم، محمد شعیب، محمد مقصود عالم، فیصل رحمانی، محمد راہیل، محمد شہباز، نذیر عالم سمیت بڑی تعداد میں کانگریس کارکن موجود تھے۔ پروگرام پُرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔

