سیاسی جماعتیں اور عوامی مفادات

تاثیر 30 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر ڈرامائی موڑ پر آ گئی ہے۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم ایل سی سچن اہیر کا ایک ناتھ شنڈے کی قیادت والی شیو سینا میں شمولیت کا اعلان اور مہاراشٹر لیجسلیٹو کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے نامزدگی صرف ایک فرد کی منتقلی نہیں بلکہ ریاست کی سیاسی کشمکش کی تازہ ترین کڑی ہے۔ کل 30 جون کو ممبئی میں وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس، نائب وزیراعلیٰ ایک ناتھ شنڈے اور سنیتا اجیت پوار کی موجودگی میں یہ پیش رفت سامنے آئی تھی۔ ظاہر ہے، یہ واقعہ یو بی ٹی کے لئے ایک زور دار دھچکا ہے، خاص طور پر اس وقت جب چند روز قبل ہی یو بی ٹی کے چھ لوک سبھا ارکان بھی شنڈے کیمپ میں شامل ہو چکے ہیں۔
سچن اہیر آدتیہ ٹھاکرے کے قریبی حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ممبئی کے عوامی مسائل پر آواز اٹھانے والے تجربہ کار رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی شمولیت کو مہایوتی اتحاد نے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ ریاستی وزیر ادے سمنت کا کہنا ہے کہ تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب یو بی ٹی کی طرف سے سنِیل راوت نے اسے ’’بڑا دھچکا‘‘  قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی متعدد جھٹکوں سے گزر چکی ہے اور اب بھی مضبوط ہے۔حالانکہ موجودہ صورتحال سے شیو سینا کی 2022-23 کی تقسیم کے تسلسل کا اظہار ہوتا ہے۔ اصل شیو سینا کا ورثہ، ’’ہندوتو‘‘کی سیاست اور مہاراشٹر کی مراٹھی پہچان جیسے مسائل پر دونوں گروپ کے درمیان جاری جدوجہد نے ریاست کی سیاست کو دو قطبی بنا دیا ہے۔ ایک طرف مہایوتی (بی جے پی، شنڈے شیو سینا اور این سی پی) کی حکومت استحکام کے ساتھ ترقیاتی ایجنڈے پر توجہ دے رہی ہے تو دوسری طرف یوبی ٹی اپنے خالص ’’بال ٹھاکرے والے‘‘ بیانیے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سچن اہیر جیسی شخصیت کی منتقلی یو بی ٹی کے لئے نہ صرف تعداد کا نقصان ہے بلکہ اس کے اندرونی استحکام اور قیادت پر اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ظاہر ہے، جب قریبی ساتھی ہی مخالف کیمپ میں شامل ہو جائیں تو یہ پارٹی کی نظریاتی کشش اور تنظیمی طاقت پر سوالات کا اٹھنا فطری ہے۔ تاہم، سیاسی جماعتوں میں ہجرت ایک عام رجحان ہے۔ یہ رہنماؤں کی ذاتی خواہشات، ترقیاتی مواقع یا نظریاتی اختلافات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب مہایوتی کی جانب سے یہ اقدام اس کی توسیع پسند سیاست کی نشاندہی کرتا ہے۔ دیوندر فڑنویس کی قیادت میں حکومت مختلف گروپ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو شامل کر کے ایک وسیع اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جو انتخابات میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے پارٹی کے نظریات کی پختگی اور وفاداری کے اصول بھی کمزور پڑتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ایک صحت مند جمہوریت میں سیاسی ہجرت کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا ہے، البتہ اسے اخلاقی حدود میں رکھنا ضروری ہے۔ بھارت کے آئین میں اینٹی ڈیفیکشن قانون کا مقصد بھی یہی تھا کہ منتخب نمائندے عوامی مینڈیٹ کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے پارٹی نہ بدلیں۔ تاہم، عملی طور پر یہ قانون اکثر ناکام رہتا ہے، جیسا کہ مہاراشٹر میں شیو سینا کی تقسیم کے وقت دیکھا گیا تھا۔حالانکہ اس رجحان کے مثبت پہلو بھی ہیں۔ اگر رہنما عوامی مسائل پر بہتر کارکردگی کے لئے پارٹی تبدیل کرتے ہیں تو یہ ووٹرز کے لئے انتخاب کا موقع فراہم کرتا ہے۔اور منفی پہلو یہ ہے کہ بار بار کی ہجرت سیاسی عدم استحکام پیدا کرتی ہے، جو ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ مہاراشٹر جیسی معاشی طور پر اہم ریاست سیاسی ڈراموں سے زیادہ ترقی اور گورننس پر توجہ کا مستحق ہے۔ایسے میں یو بی ٹی کو چاہئے کہ وہ اندرونی جمہوریت کو مضبوط کرے، نوجوان رہنماؤں کو موقع دے اور نظریاتی وضاحت کے ساتھ عوام کے پاس جائے۔ جبکہ حکمران اتحاد کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں، کسانوں اور نوجوانوں کے مسائل کو ترجیح دے اور محض تعداد بڑھانے کی سیاست سے بالاتر ہو کر ریاست کی مجموعی ترقی کو یقینی بنائے۔
بہر حال سچن اہیر کی منتقلی مہاراشٹر کی سیاست کا ایک دوسرا رخ ہے، جو پارٹی استحکام، قیادت کی ساکھ اور عوامی اعتماد کے امتحان پر مبنی ہے۔حالانکہ صحت مند جمہوریت کا تقاضہ یہ ہے کہ سیاسی تبدیلیاں وفاداری، اصول اور عوامی فلاح کے دائرے میں رہیں۔ ووٹرز کو چاہئے کہ وہ ایسے رہنماؤں کو ڈھونڈ نکالیں ، جو صرف کرسیوں کے پیچھے نہیں دوڑتے بلکہ عوامی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ چنانچہ یہ مسلم ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست کو اگر آڈیو لاجی اور گورننس کے متوازن امتزاج کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو ریاست نہ صرف خود مضبوط ہوگی بلکہ قومی سیاست کے لئے ایک مثبت مثال بھی بن سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے بہتر مستقبل کے لئے کام کریں۔اور در اصل یہی ان کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
*****