تاثیر 7 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ارریہ:- ( مشتاق احمد صدیقی ) قطر میں مقیم معروف شاعر عزیز نبیل کی منتخب اردو شاعری کا عربی ترجمہ ’’تحت رماد الاحلام‘‘ کے نام سے شائع ہوکر منظرِ عام پر آچکا ہے۔ یہ ترجمہ معروف عربی داں اور ترجمہ نگار پروفیسر حبیب اللہ خاں (اعزازی ڈائریکٹر، ڈاکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی نگرانی میں شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو نوجوان اساتذہ ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن اور ڈاکٹر محمد عمیر نے کیا ہے۔ یہ کتاب مشہور اشاعتی ادارے وجیا بُکس نے شائع کی ہے۔ اس کتاب کی رسمِ اجرا شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی اور آئیڈیا کمیونی کیشنز کے زیرِ اہتمام خواجہ احمد فاروقی میموریل لائبریری، فیکلٹی آف آرٹس، دہلی یونیورسٹی میں عمل میں آئی۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے ریٹائرڈ آئی اے ایس اور چیئرمین بھارتیہ شکشا بورڈ این۔ پی۔ سنگھ نے کہا کہ شاعری زندگی کی تنظیمِ نو کرتی ہے اور ترجمہ ناممکن ہونے کے باوجود ناگزیر عمل ہے۔ یہی وہ ترجمہ ہے جس سے فیض اٹھا کر تاریکی میں ڈوبا ہوا مغرب ہندوستان اور عرب کی روشنی سے منور ہوا۔ مہمانِ اعزازی منیجنگ ایڈیٹر ’’ہندوستان‘‘ پرتاپ شیوم ونشی نے کہا کہ ترجمے کے بغیر ہم کسی ترقی یافتہ دنیا کا تصور نہیں کرسکتے۔ ترجمہ ہی دو تہذیبوں اور جغرافیوں کو متصل کرنے کا واحد وسیلہ ہے۔ عزیز نبیل کی شاعری کا یہ ترجمہ ہندوستان اور خلیج کے درمیان ایک مستحکم ادبی اور تہذیبی رابطے کا فریضہ انجام دے گا۔ اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر حبیب اللہ خاں نے کہا کہ عزیز نبیل کی شاعری کا استعاراتی پیرایہ ترجمہ نگار کو خاصا پریشان کرتا ہے۔ اس ترجمے میں اردو اور عربی کے الگ الگ لسانی اور تہذیب سیاق کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ ترجمہ اصل متن کے قریب رہے۔ صدر شعبۂ عربی، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر فوزان احمد نے عزیز نبیل کی شاعری پر مفصل اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا تقابل معاصر عربی شاعری سے کیا۔
جلسے میں آئیڈیا کمیونی کیشنز کے ڈائریکٹر آصف اعظمی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزیز نبیل کی شاعری میں ہندوستان اور خلیج کا عہدِحاضر دھڑک رہا ہے۔ یہ ترجمہ عرب احباب کی فرمائش پر کیا گیا ہے۔ انھیں بہت دنوں سے تجسس تھا کہ عزیز نبیل کی شاعری سے استفادہ کیا جائے۔ اس موقع پر صاحبِ اعزاز عزیز نبیل نے اپنی دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس ترجمے سے بہت مطمئن ہوں۔ دو لائق اور باصلاحیت نوجوانوں نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ میری اردو شاعری کو عربی پیکر میں ڈھالا ہے۔ اور مجھے اس لئے بھی اطمینان ہے کہ اس کی نگرانی ممتاز عربی داں اور ترجمہ نگار پروفیسر حبیب اللہ خاں نے کی ہے۔ اس پروگرام میں آصف اعظمی اور صدر شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی پروفیسر ابوبکر عباد نے شال پوشی اور گلدستے سے مہمانان کا خیرمقدم کیا۔ تقریبِ رسمِ اجرا کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر خالد مبشر نے انجام دیئے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں معزز افراد موجود تھے۔

