تاثیر 18 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اختر الایمان،رکن اسمبلی ، امور (پور نیہ)
ریاستی صدر مجلس اتحاد المسلمین بہار
بہار کا شمال مشرقی خطہ سیمانچل اپنی جغرافیائی اہمیت، تہذیبی تنوع، زرعی وسائل اور سیاسی حیثیت کے باعث ریاست کا ایک نمایاں خطہ سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ اسے بہار کی مسلم اقلیت کا دل کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ ارریہ، کشن گنج، پورنیہ اور کٹیہار اضلاع پر مشتمل یہ علاقہ نیپال، مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کے قریب واقع ہے، جس کے باعث اسے تاریخی، ثقافتی اور تجارتی اعتبار سے بھی ایک منفرد مقام حاصل ہے۔یہاں مجموعی طور پر مسلم اقلیت 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس سے اس خطے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن سماجی، معاشی ، تعلیمی اور تہذیبی اعتبار سے یہ علاقہ بہت پسماندہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے اج تک سرکاری سطح سے اس علاقے کو ترقی کی نعمت سے محروم رکھا گیا ہے ۔حکومت جس سیاسی پارٹی کی بھی ہو سب نے اسے نظر انداز کیا ہے ۔ اس پر ستم یہ ہے کہ یہاں کے اکثر علمائے کرام جن کے ذمے امت کی شیرازہ بندی اور صحیح رہنمائی ہے وہ سیمانچل کی ترقی اور بہتری کی راہ دکھانے ، ان کی ذہنی و مذہبی تربیت کرنے کی بجائے مسلکی ، اختلافات اور علاقائی اور ذاتی تفریق میں الجھے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلم سماج میں کئی مسائل ابھر کر سامنے آئے ہیں
سماجی اور معاشی منظرنامہ
سیمانچل مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے۔ یہاں صدیوں سے باہمی رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ تہذیبی روایات پروان چڑھتی رہی ہیں۔ دیہی زندگی، خاندانی نظام اور سماجی تعاون یہاں کے معاشرے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ یہاں سبھی مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آتے ہیں۔ لیکن ترقی کے وسائل سے دور رہنے اور حکومت کے ذریعہ مسلسل نظر انداز کیے جانے کے سبب یہ علاقہ سماجی اعتبار سے یہ ایک بےحد پسماندہ علاقہ ہے۔ سیمانچل کے جس علاقے میں جائیے آپ کو غربت اور پسماندگی کا شدت کے ساتھ احساس ہوگا۔
اس خطے کی معیشت کا بنیادی انحصار زراعت پر ہے۔ دھان، مکئی، جوٹ، گندم , چائے اور انناس وغیرہ یہاں کی اہم پیداوار ہیں۔ تاہم غربت، ناخواندگی، صنعتوں کی کمی، بار بار آنے والے سیلاب، بے روزگاری اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری نے معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ اسی وجہ سے بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کی تلاش میں ملک کے دوسرے حصوں کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ ملک سے باہر بھی جاتے ہیں جس کا خمیازہ یہ ہوتا ہے کہ بچے والد کی عدم موجودگی میں بے لگام اور بے راہ ہو جاتے ہیں۔ یہ بچے کم عمری میں نشہ جیسی خطرناک لت کے شکار ہو رہے ہیں۔ لڑکیاں غلط راستوں پر چل کر مرتد ہو رہی ہیں۔ بیویاں شوہر کی غیر موجودگی میں غلط راستوں پر چل پڑتی ہیں ۔ جس کا آئے دن کے واقعات ثبوت مل رہا ہے۔ بچوں کی بے راہ روی, لڑکیوں میں فتنہ ارتداد اور بیویوں میں بد چلنی اور بے راہ روی اس علاقے کا سب سے بڑا اور خطرناک سماجی مسئلہ ہے۔
تعلیمی منظرنامہ
تعلیمی اعتبار سے سمانچل بے حد پسماندہ ہے۔ یہاں لڑکیوں میں تو تعلیم کا رواج ہی نہیں تھا ۔ گزشتہ چند برسوں سے تعلیم کے شعبے میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معیاری تعلیمی اداروں، ٹیکنیکل تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کی سہولتوں کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے باوجود نوجوان نسل میں تعلیم کے حصول کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے، یہاں پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکول بھی خوب کھل رہے ہیں جس کی طرف والدین راغب ہیں اور اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دلانے کے لیے کوشاں ہو رہے ہیں ۔یہ مستقبل کے لیے خوش آئند اشارہ ہے۔
یہاں مسلم اقلیت کے میڈیکل کالجز ، یونانی میڈیکل کالجز ، ٹیچرس ٹریننگ کالجز انجینئرنگ کالج اور گرلز اسکولوں کی کمی بھی اس علاقے کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔
لسانی و ثقافتی منظر نامہ
سیمانچل اپنی لسانی رنگا رنگی کے لیے بھی معروف ہے۔ یہاں اردو، ہندی، سرجاپوری، بنگلہ اور میتھلی سمیت کئی زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں۔ اردو زبان کو یہاں علمی، ادبی اور ثقافتی زندگی میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے، یہاں اردو میں تعلیم کا رواج بھی عام ہے ۔ مدرسوں کی کثرت کی وجہ سے اردو کی تعلیم عام ہے۔لہذا اس خطے میں اردو زبان زبان پذیر نہیں ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ علاقہ مختلف زبانوں اور ثقافتوں کا امتزاج اس خطے کی مشترکہ تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔جو خوش آئند ہے۔
سیاسی منظر نامہ
بہار کی سیاست میں سیمانچل ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں کے عوام جمہوری عمل میں بھرپور شرکت کرتے ہیں اور تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی سہولیات، سیلاب سے تحفظ اور متوازن ترقی جیسے مسائل سیاسی گفتگو کے مرکزی موضوعات ہیں۔ اس خطے کی سیاسی بیداری میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انتخابات کے موقع پر یہاں کے عوام اپنی سیاسی بیداری کا بھرپور ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں یہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ سیمانچل کی ایک مضبوط پارٹی بن چکی ہے۔ اس وقت ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے پانچ رکن اسمبلی میدان عمل میں ہیں اور سیمانچل کی بہتری کی ہر ممکن کوشش میں شب و روز لگے ہوئے ہیں۔یہاں مجلس اتحاد المسلمین کے امکانات بہت روشن ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ مسلم رائے دہندگان کی اکثریت ہے۔ لیکن کبھی کبھی مسلم ووٹ کی بکھراؤ کی وجہ سے بی جے پی بھی سبقت لے جاتی ہے ۔جو افسوسناک ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کی مقبولیت اور سرزمین پر نفوذ کا یہی عالم رہا تو سیمانچل کی 24 اسمبلی نشستوں میں سے اکثر سیٹ پر مجلس اتحاد المسلمین اپنا پرچم لہرا سکتی ہے
اختتامی کلمات
سیمانچل بیک وقت چیلنجز اور امکانات کی سرزمین ہے۔ زرخیز زمین، نوجوان آبادی اور ثقافتی تنوع اس کی طاقت ہیں، جبکہ غربت، سیلاب، تعلیمی پسماندگی اور صنعتی کمی اس کے بڑے مسائل ہیں۔ اگر حکومت، سماجی ادارے اور عوام مل کر تعلیم، صحت، صنعت، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ دیں تو سیمانچل نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس خطے کو خصوصی رعایت نہیں بلکہ مساوی مواقع اور منصفانہ ترقی درکار ہے، کیونکہ سیمانچل کی خوش حالی دراصل بہار کی خوش حالی ہے۔

