تاثیر 22 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار کی بانکی پور اسمبلی سیٹ پر ہونے والا ضمنی انتخاب بہار کی سیاست کے لئے ایک اہم تجربہ ثابت ہوسکتا ہے۔یہاں کے چناوی میدان میںجہاںایک طرف روایتی پارٹیاں ہیں، وہیں دوسری طرف جن سوراج کے بانی پرشانت کشور (پی کے) کی موجودگی نے مقابلے کو دلچسپ اور سہ زاویہ بنا دیا ہے۔اس کے علاوہ بی جے پی اور جن سوراج کی ایک دوسرے کے خلاف الیکشن کمیشن تک پہنچی شکایات نے ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ یہ انتخاب نہ صرف مقامی سطح کا ہے بلکہ ریاست کے اگلے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی طاقت کے نئے تانے بانے کا پیش خیمہ بھی بنتا دکھائی دینے لگا ہے۔
بی جے پی نے پرشانت کشور پر 40 لاکھ روپے کے مقررہ انتخابی خرچ کی حد سے تجاوز، بوٹ نیٹ ورک، جعلی کمپنیوں اور غیر ملکی ہینڈلرز کے ذریعے پروپیگنڈا چلانے کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ بوٹ نیٹ ورک ایک ایسا نظام ہے، جس میں درجنوں، سینکڑوں یا ہزاروں خودکار سافٹ ویئر پروگرامز ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہ نظام ایسے روبوٹس کی طرح کام کرتا ہے ، جو حقیقی انسانوں کی طرح سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلاتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے کوئی انسان نہیں ہوتا۔ بی جے پی کے وفد نے الیکشن کمیشن کومتعلقہ دستاویزات پیش کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔حالانکہ اس سے قبل جن سوراج نے بھی بی جے پی کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی خود کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کر رہی ہے۔ شاہنواز حسین، متھلیش تیواری اور دیگر لیڈروں کی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پارٹی اس الیکشن کو ہلکے میں نہیں لے رہی ہے۔
پرشانت کشور، جو ایک پڑھے لکھے، اسٹریٹجسٹ اور جدید سیاسی سوچ رکھنے والے امیدوار کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس انتخاب میں خاصا چرچا میں ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کا مرکز ان علاقوں کو بنایا گیا ہے، جہاں سے بی جے پی کو بغیر کسی خاص کوشش کے ووٹ مل جاتے رہے ہیں۔ظاہر ہے، ان کی نظر بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک پر ہے۔ اس وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ بی جے پی تھوڑی گھبرائی ہوئی بھی ہے۔ پرشانت کشورکے حامی انہیں’’تبدیلی کی امید‘‘ کے طور پر پیش کرکے ووٹرز کو سمجھا رہے ہیں۔
دوسری طرف، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ریکھا گپتا کو امیدوار بنایا ہے۔ 2025 کے انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کے نیتن نوین کو سخت ٹکر دی تھی اور تقریباً 46 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ پارٹی اپنے پرانے ووٹ بینک اورچناوی تانے بانے کے بل بوتے پر میدان میں ہے۔گرچہ اس بار آر جے ڈی کے روایتی مسلم-یادو (ایم وائی) ووٹ اتحاد کا تانا بانا بکھرتا ہوا صاف دکھائی دے رہا ہے، لیکن یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ سہ رخی مقابلہ والے اس ضمنی انتخاب میں آر جے ڈی بھی پورے دم خم کے ساتھ موجود ہے۔وہیں بی جے پی ترقی اور سوشاسن کا نعرہ لے کر میدان میں ہے جبکہ آر جے ڈی کا انحصار اپنے روایتی ووٹ پرہے۔ پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نئی قسم کی سیاست کا دعویٰ کر رہی ہے جو ذات پات اور روایتی وفاداریوں سے بالاتر ہو۔ الزامات اور جوابات کے درمیان اصل سوالات یہ ہیں کہ کیا پرشانت کشور بی جے پی کے ووٹ بینک میں سیندھ لگا سکیں گے ؟ اور کیا آر جے ڈی اپنا ایم وائی کمبی نیشن دوبارہ جوڑ پائےگا؟ اور کیا یہ انتخاب بہار میں نئی سیاسی طاقت کے ابھرنے کا اشارہ تو نہیںدے رہا ہے؟
فی الحال، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام الزامات کی شفاف جانچ کرے اور انتخابی عمل کی پاکیزگی کو برقرار رکھے۔ ووٹرز کے لئے یہ ایک موقع ہے کہ وہ امیدواروں کی صلاحیتوں، ان کے منشور اور ماضی کے کارناموں کو دیکھیں۔ بانکی پور کا نتیجہ نہ صرف اس سیٹ کا فیصلہ کرے گا بلکہ آنے والے دوسرے انتخابات کے لئے بھی رجحانات متعین کر سکتا ہے۔ایسے میں سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ الزام تراشی سے بالاتر ہو کر مثبت ایجنڈا پر توجہ دیں۔ بہار کو ترقی، تعلیم اور روزگار کی ضرورت ہے۔ذات پات اور مذہبی تقسیم سے یہ ضرورت پوری نہیں ہو دکتی ہے۔ اب ووٹرز کی ایمانداری ودیانت داری پر منحصر ہے۔انھیں چاہئے کہ وہ اپنے حلقے کے لئے ایک ایسے نمائندے کا انتخاب کریں، جو جمہوریت کے لئےسودمند ہو۔فی الحال بانکی پور کا یہ ضمنی انتخاب روایتی سیاست اور نئی حکمت عملی کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ کے طور سامنے ہے۔اب نتیجہ جو بھی ہو، لیکن عوام کو یقین ہے کہ جو بھی ہوگا،بہت بہتر ہوگا!
************

