زہریلی شراب پینے سے مزدور کی موت کا الزام، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار

تاثیر 23 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ)سمری تھانہ علاقے کی سڑھواڑہ پنچایت کے رسل پور وارڈ نمبر 03 کے رہائشی پریکشن رام کے 30 سالہ بیٹے سنیل رام کی بدھ کی دیر رات مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ گاؤں میں فروخت ہونے والی زہریلی کچی شراب پینے کے باعث اس کی جان گئی۔ واقعے کے بعد پورے گاؤں میں سنسنی پھیل گئی۔ اطلاع ملتے ہی سمری تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا۔ متوفی کے بھائی سشیل رام اور بھابھی گونجا دیوی نے بتایا کہ سنیل رام گاؤں میں مزدوری کرنے کے بعد جمعرات کی شام تقریباً چھ بجے گھر واپس آیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ باہر چلا گیا۔ رات تقریباً دس بجے گھر لوٹ کر کھانا کھایا اور سو گیا۔ رات تقریباً بارہ بجے اچانک اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ وہ تڑپنے لگا اور اہلِ خانہ سے کہنے لگا کہ اب میں نہیں بچوں گا اس کے بعد گھر والے اسے علاج کے لیے اسپتال لے جا رہے تھے، مگر راستے ہی میں اس کی موت ہو گئی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ شام کے وقت سنیل نے گاؤں میں فروخت ہونے والی کچی شراب پی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ اسی زہریلی شراب کے باعث اس کی موت ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکڑوں افراد موقع پر جمع ہو گئے۔ گاؤں والوں نے بھی الزام لگایا کہ علاقے میں کافی عرصے سے غیر قانونی شراب کی کھلے عام فروخت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اس پر روک لگائی جاتی تو ایک خاندان کا سہارا نہ چھنتا۔ لوگوں نے انتظامیہ سے غیر قانونی شراب کے کاروبار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر اروند کمار، سب انسپکٹر منوج شرما اور پنّالال سنگھ پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے
اہلِ خانہ نے بھی موت کی وجوہات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور پوسٹ مارٹم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سنیل رام آٹھ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا اور مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتا تھا۔ پسماندگان میں اس کی بیوی امریتا دیوی، ڈیڑھ سالہ بیٹا سندرم کمار اور معمر والدہ ریکھا دیوی شامل ہیں بیٹے کی موت سے والدہ ریکھا دیوی کا رو رو کر برا حال تھا۔ وہ بار بار بے ہوش ہو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ اب خاندان کی کفالت کون کرے گا واقعے کے بعد پورے گاؤں میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ تھانہ صدر اروند کمار نے بتایا کہ شراب پینے سے موت ہونے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کی درخواست پر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ پتہ چل سکے گا