تاثیر 24 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں پورے ملک میں طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے۔ اس درمیان اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سوشل ایکٹوسٹ سونم وانگچک نے 26 دن کی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق کئی وزراء اورایم پیز کی اپیل، پارلیمنٹ میں بحث کرانے، متاثرین کو معاوضہ دینے اور تحریکی طلبہ کے خلاف کارروائی نہیں ہونے دینے کی یقین دہانی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی درمیان سپریم کورٹ نے حکومت کو سخت تنبیہ کی ہے۔ساتھ ہی پورے ایگزامنیشن سسٹم کی قریبی نگرانی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔جسٹس پی ایس نرسمھا اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ نے کل معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بار بار کی غلطیوں کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے۔سپریم کورٹ کا یہ قدم طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام کی ساکھ دونوں کے لئے اہم ہے۔دوسری جانب سونم وانگچک کا کہنا ہے کہ ہمیں تحریری دہانی ملی ہے کہ پیپر لیک روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اور متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ وانگچک کہتے ہیں کہ طلبہ کا مستقبل ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ ان کی اس قربانی نے قومی سطح پر تعلیمی نظام میں اصلاحات کی آواز کو زور دیا ہے۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج اب ملک کے نوجوانوں کا ہے۔ان کو چاہئے کہ وہ اسے پرامن رکھیں۔
اِدھر اس سلسلے میںحکومت نے بھی کئی اقدامات کیے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں نئے سیکرٹریز کی تعیناتی، این ٹی اے میں قیادت کی تبدیلی، رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات پر عمل، جی پی ایس ٹریکنگ، بائیو میٹرک کنفرمیشن اور سائبر سیکیورٹی آڈٹ جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔پی ایم نریندر مودی نے فاسٹ ٹریک کورٹس کے قیام اور سخت سزاؤں والا بل جلد منظور کرانے کا اعلان کیا ہے۔ 22 لاکھ طلبہ کے لئے بلا تاخیر دوبارہ امتحان کا انعقاد اور پیپر لیک کے کئی ملزمان کی گرفتاریوں کی جانب بھی پی ایم نے اشارہ کیا ہے۔ان اقدامات کے ذریعہ پی ایم نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ حکومت طلبہ کے دباؤ کو نظر انداز نہیں کر رہی ہے۔
تاہم، نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے 6 جون سے جاری احتجاج دھیرے دھیرے زور پکڑتے ہوئے پورے ملک میںپھیل کر تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ 20 جولائی کو تحریک کاروں کے خلاف دہلی پولس کے ذریعہ کئے گئے طاقت کے استعمال کے بعد سے صورتحال اور بھی بگڑ گئی ہے۔ اب تومتعدد اپوزیشن لیڈرز بھی طلبا کی حمایت میں میدان میں آ گئے ہیں۔ طلبہ تعلیم وزیر دھرمندر پردھان کے استعفیٰ کی مانگ پر اڑے ہوئے ہیں۔ گرچہ حکومت نے چند انتظامی تبدیلیاں کی ہیں، مگر سیاسی ذمہ داری کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے تحریکی طلبہ مطمئن نہیں ہو پا رہے ہیں۔ مرلی منوہر جوشی اور نشی کانت دوبے سمیت بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے بھی طلبہ کی تشویش کو تسلیم کرتے ہوئے نرم رویہ اپنانے کی تلقین کی ہے۔
طلبہ کا ملک گیر احتجاج اس بات کی یاد دہانی ہے کہ لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل ایک شفاف اور سیف ایگزامنیشن سسٹم چاہتا ہے ۔ نیٹ جیسے امتحانات میں لاکھوں طلبہ اپنے خوابوں کو سنجوئے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک پیپر لیک نہ صرف ان کی محنت کو چھین لیتا ہے بلکہ اعتماد بھی توڑ دیتا ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داروں کو نہ صرف صرف سزا ملے بلکہ نظام کو ایسا بنایا جائےتاکہ اسے کرپشن کو کوئی دہرانے کی ہمت نہیں کر سکے ۔ ہماری نئی نسل کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہو، نہ کہ کرپشن اور بدعنوانی کا۔چنانچہ اس وقت ضرورت ہے کہ حکومت، عدالت اور سول سوسائٹی مل کر ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈا تیار کریں۔ فاسٹ ٹریک کورٹس کے قیام کے علاوہ این ٹی اے کو مکمل طور پر شفاف اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے ایگزامنیشن سسٹم کو فل پروف بنایا جائے۔
بہر حال یہ یقین ہے کہ سونم وانگچک کی قربانی، سپریم کورٹ کی نگرانی اور حکومت کے مؤثر اقدامات مل کرایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ سیاسی اور انتظامی سطح پر مکمل احتساب یقینی بنایا جائے۔ طلبہ کا مستقبل اس ملک کا مستقبل ہے۔ اگر ہم ان کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے تو ترقی کے تمام دعوؤں پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ پرامن احتجاج جاری رکھتے ہوئے طلبہ کو بھی صبر اور امید کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ ویسےایگزامنیشن سسٹم میں اصلاح اب ناگزیر ہو چکی ہے۔

