راہل گاندھی نے زخمی طالبات کے ساتھ پریس کانفرنس کی، وزیراعظم سے معافی مانگنے کا مطالبہ

تاثیر 25 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 25 جولائی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو ایک بار پھر احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ تین طالبات بھی موجود تھیں، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کارروائی کے دوران وہ زخمی ہوئی تھیں۔ راہل گاندھی نے ان طالبات کے ساتھ مل کر معاوضہ، معافی اور استعفے سے متعلق اپنی تین مطالبات کو دوبارہ دہرایا۔سونیا گاندھی کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مرکزی کابینہ سے برطرف کیا جائے۔ انہیں کسی دوسرے قلمدان میں منتقل کرنا قابل قبول نہیں ہوگا، بلکہ انہیں وزارت سے استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان بدعنوانی اور تعلیمی نظام کی زبوں حالی کی علامت بن چکے ہیں اور ان کی موجودگی میں ملک کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا۔
دوسرے مطالبے کے طور پر راہل گاندھی نے کہا کہ ان پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے طلبہ پر لاٹھی چارج کرایا اور پیلٹ گن کا استعمال کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھ کھڑی زخمی طالبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں طلبہ ایسے ہیں جن کے ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے یا جن کی بینائی متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق اس تشدد کے ذمہ دار خواہ منتظمین ہوں یا کارروائی کرنے والے اہلکار، سب کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔