تاثیر 29 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اتر پردیش کے رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو بلڈوز کرنے کے معاملے میں تازہ پیش رفت نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ انتظامیہ کے فیصلے کہاں تک غیر جانبدار اور کہاں تک سیاسی مصلحتوں کے تابع ہوتے ہیں۔ اِدھرمحمد علی جوہر ٹرسٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے اپنی عرضی واپس لے لی ہے کیونکہ مرادآباد کمشنر کورٹ نے ان عمارتوں کو گرائے جانے کے فیصلے پر عبوری روک لگا دی ہے۔ یہ روک تب لگی ہے جب طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ بچوں اور بوڑھوں کی تحریک نے پورے بھارت میں ایک واضح اور مثبت پیغام دے دیا تھا۔
واضح ہو کہ 15 جولائی، 2026 کو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے)نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو 15 دن کے اندر منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ یہ عمارتیں منظور شدہ بلڈنگ پلان کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ اور کمشنر کورٹ دونوں میں اپیل دائر کی تھی۔ چنانچہ معاملے کی نزاکت کے مد نظر کمشنر کورٹ نےعمارتوں کو بلڈوز کرنے کے فیصلے پرعبوری روک لگا دی۔اس فیصلے کے بعد ہائی کورٹ میں دائر عرضی کا مقصد ختم ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے ٹرسٹ نے کل اسے واپس لے لیا۔ اگلی سماعت 3 اگست کو کمشنر کورٹ میں طے ہے۔
اس پورے معاملے میں عوامی رائے کا رخ شروع سے ہی واضح تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح سے آ گئی تھی کہ جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں پر بلڈوزر چلانے کا فیصلہ کسی انصاف پسند حکومت کا نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے سیاسی انتقام کا جذبہ کارفرما تھا۔ سابق کابینہ وزیر اعظم خان نے 2006 میں اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی۔مگر جب سے ریاست میں سماجوادی پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تب سے اعظم خان اور ان کی فیملی کے ساتھ ساتھ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی بھی مختلف قانونی چیلنجز کا سامنا کرتی آ رہی ہے۔ پچھلے ہفتے جب دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ و نوجوانوں کی تحریک کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی تھی تبھی سے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف جوہر یونیورسٹی کے صدر دروازے پر ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعرے لگنے شروع ہو گئے۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ نعرے عوامی تحریک میں بدل گئے۔ طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے ہزاروں بوڑھے اور بچے جوہر یونیورسٹی کے کیمپس میں غیر معینہ مدت کے لئے دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ اسی تحریک کا نتیجہ ہے کہ اس آمرانہ فیصلے پر روک لگ سکی ہے۔
یونیورسٹی میں اس وقت 1205 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اس میں 162 تدریسی و غیر تدریسی عملہ ہیں۔ اگر عمارتیں گرا دی جاتیں تو نہ صرف بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی بلکہ متعدد خاندانوں کی روزی روٹی بھی خطرے میں پڑ جاتی۔ اس پہلو کو نظر انداز کر کے محض تکنیکی بنیاد پر یونیورسٹی کی عمارتوں کو بلڈوز کرنے کا حکم دینا انتظامی ناانصافی کے زمرے میں آتا تھا۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہ ہے کہ اگر عمارتیں واقعی غیر قانونی ہیں تو باقاعدہ سماعت، نوٹس اور مناسب وقت دے کر معتدل کارروائی کی جائے۔ اچانک بلڈوزر لے کر پہنچ جانا نہ تو شفافیت کی علامت ہے اور نہ ہی انصاف کی۔
دوسری طرف، یہ بھی حقیقت ہے کہ بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کسی بھی ادارے کو مستثنیٰ نہیں بناتی۔ اگر جوہر یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعی منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیرات کیں تو اس کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایسے معاملات میں اکثر سیاسی پس منظر دیکھ کر کارروائی کی شدت اور رفتار بدل جاتی ہے۔ جب کوئی ادارہ کسی مخصوص سیاسی شخصیت سے منسلک ہو تو انتظامیہ کے فیصلے پر سیاسی انتقام کے الزامات قدرتی طور پر لگتے ہیں۔ اس الزام کو صرف اس وقت رد کیا جا سکتا ہے جب اسی طرح کے دیگر اداروں پر بھی یکساں معیار کے تحت کارروائی کی جائے۔
بلا شبہ جنتر منتر پرطلبہ کی تحریک نے ملک کے عوام کو ایک اہم سبق دیا ہے۔ جب آئینی ادارے خاموش رہتے ہیں تو نوجوانوں کو آواز اٹھانی پڑتی ہے۔ رامپور میں بھی ایسا ہی ہوا۔وہاں کی تحریک نے بھی یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر یونیورسیٹی کی عمارتوں کودوبارہ ڈھانے کی کارروائی شروع ہوئی تو احتجاج پھر شروع ہوگا۔ دنیا یہ بات مانتی ہے کہ تعلیمی اداروں پر بلڈوزر چلانا نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ معاشرتی ترقی کے خلاف بھی ہے۔
بہر حال کمشنر کورٹ میں 3 اگست کو اس معاملے کی اگلی سماعت طے ہے۔امید کی جانی چاہئے کہ اس میں محض تکنیکی نکات پر نہیں بلکہ انصاف، طلبہ کے مستقبل اور قانون کی یکساں اطلاق پر بھی غور کیا جائے گا۔ سیاسی انتقام کے بجائے شفاف اور منصفانہ عمل ہی ریاست کی ساکھ کو بچا سکتا ہے۔ جوہر یونیورسٹی کا معاملہ اب صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کی پرکھ ہے کہ آیا موجودہ انتظامیہ قانون کی خادم ہے یا سیاسی مفادات کی پیروکار۔
*******

