تاثیر 01 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ،(فضاامام):دربھنگہ کلکٹریٹ کے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر آڈیٹوریم میں وزیرِ پنچایتی راج، حکومتِ بہار دیپک پرکاش کی صدارت میں ضلع سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پنچایت سرکار بھون، وزیر اعلیٰ کنیا ودیاہ منڈپ، ضلع پریشد کی مختلف ترقیاتی اسکیموں، موکش دھام اور وزیر اعلیٰ دیہی سولر اسٹریٹ لائٹ منصوبہ سمیت متعدد اہم منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے آغاز میں ضلع مجسٹریٹ کوشل کمار نے وزیر دیپک پرکاش اور دربھنگہ دیہی کے رکن اسمبلی راجیش کمار منڈل کا پگڑی، شال اور پودا پیش کرکے خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر ضلع کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع کی مجموعی 308 پنچایتوں میں پنچایت سرکار بھون تعمیر کیے جانے ہیں، جن میں سے 98 عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ 154 عمارتیں زیرِ تعمیر ہیں۔ وزیر نے تمام بلاک ترقیاتی افسران اور پنچایتی راج افسران کو ہدایت دی کہ وہ تعمیراتی کاموں کا باقاعدہ معائنہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام منصوبے مقررہ معیار اور وقت کے مطابق مکمل ہوں۔ انہوں نے متعلقہ ایجنسیوں کو بھی تعمیراتی معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی۔وزیر نے عمارت سازی محکمہ کے افسران کو یہ بھی ہدایت دی کہ پنچایت سرکار بھون کے منظور شدہ تخمینوں کی نقول متعلقہ افسران کو فراہم کی جائیں تاکہ تعمیراتی کاموں کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔ اجلاس میں ضلع پریشد کی مختلف ترقیاتی اسکیموں اور اس کی اراضی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور تمام منصوبوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق نافذ کرنے پر زور دیا گیا۔موکش دھام منصوبے کے تحت ضلع بھر میں 446 مقامات کا سروے مکمل ہونے کی بھی اطلاع دی گئی۔ دریں اثنا رکن اسمبلی راجیش کمار منڈل نے گوسا گھاٹ اور دھوئی گھاٹ کے بند پڑے شمشان گھاٹوں کو دوبارہ فعال بنانے، نیز ہر پنچایت میں کھیل کے میدان اور لائبریری قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ دیہی سولر اسٹریٹ لائٹ منصوبہ کے تحت ضلع کو 45,600 سولر اسٹریٹ لائٹس نصب کرنے کا ہدف ملا تھا، جس کے مقابلے میں اب تک 44,537 لائٹس نصب کی جا چکی ہیں، جو تقریباً 98 فیصد ہدف کی تکمیل ہے۔ وزیر نے خراب لائٹس کی فوری مرمت، باقاعدہ جانچ اور بہیری و کشیشوراستھان بلاک میں باقی ماندہ کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔وزیر نے مزید ہدایت دی کہ جہاں پنچایت سرکار بھون مکمل ہو چکے ہیں وہاں آر ٹی پی ایس عملہ تعینات کیا جائے، سہیوگ پورٹل پر موصول ہونے والی درخواستوں کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جائے اور پنچایت وکاس دیوس پروگرام میں عوامی شرکت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔

