تاثیر 03 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 3 اگست: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے ہزاروں کارکنوں نے پیر کو این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں ‘چھاتر نیائے مارچ’ نکالا۔ یہ مارچ طلباپر مبینہ تشدد، پیلٹ گنوں کے استعمال اور جنتر منتر پر پرامن احتجاج میں ملوث طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج کے لیے کیا گیا ۔
مارچ این ایس یو آئی کے قومی دفتر سے شروع ہوا اور جنتر منتر کی طرف بڑھا۔ طلباء اور کارکنوں نے انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔مارچ کو روکنے کے لیے بھاری پولیس فورس تعینات اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ اس دوران این ایس یو آئی کے کئی کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے طلبا کے خلاف پولیس کارروائی پر مرکزی حکومت کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے طلبا کے ساتھ ہونے والے سلوک کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ونود جاکھڑ نے کہا کہ طلباء اس ملک کا مستقبل ہیں، مجرم نہیں۔ پرامن طریقے سے آواز اٹھانے والے طلبا کے خلاف پولیس فورس، پیلٹ گن، رکاوٹیں اور حراست کا استعمال مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ طلباء کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش ہماری جدوجہد کو مضبوط کرے گی۔

