حکومت بہار کا موقف درست

تاثیر 11 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار میں شراب بندی قانون 2016 سے نافذ ہے اور موجودہ سمراٹ چودھری حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اسے کسی بھی صورت میں نہیں ہٹایا جائے گا۔ قومی معاشی تحقیق کونسل (این سی اے ای آر) کی رپورٹ میں اسے ناکام قرار دے کر ریاست کی ترقی کے لئے ختم کرنے اور جیتن رام مانجھی کی ’’گجرات ماڈل‘‘ کی تجویز کے باوجود حکومت نے اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیںکرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی مصلحت پر مبنی ہے بلکہ معاشرتی حقائق کی روشنی میں بھی درست اور ناگزیر ہے۔
شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ یہ حقیقت دنیا بھر کے تجربات اور سائنسی تحقیق سے ثابت ہے۔ شراب صرف ایک مشروب نہیں بلکہ تباہی کا ایک مکمل نظام ہے۔ گھریلو تشدد، خاندانی انتشار، معاشی دیوالیہ پن، جرائم، صحت کے مسائل اور نسلی زوال اس کی براہ راست پیداوار ہیں۔ بہار جیسے غریب اور کثیر آبادی والی ریاست میں، جہاں زیادہ تر خاندان چھوٹی زمینوں پر انحصار کرتے ہیں، شراب کا استعمال مردوں کی کمائی کو نگل جاتا ہے اور عورتوں و بچوں کو بھوک، بیماری اور تشدد کا شکار بنا دیتا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس ) کے اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ شراب نوشی کے شکار مردوں کے ذریعہ بیویوں کے ساتھ جسمانی و جنسی تشدد کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نقصان جو معاشرے کو پہنچتا ہے، اس کی بھرپائی قطعی ممکن نہیں ہے ۔ مرے ہوئے افراد، ٹوٹے ہوئے گھرانے، برباد ہوچکی نسلیں اور زہر آلود شراب سے ہونے والی اموات کو کسی بھی اقتصادی حساب سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔
این سی اے ای آر کی رپورٹ میں معاشی دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ شراب بندی سے ریاست کو ایکسائز ڈیوٹی کا بڑا حصہ کھو بیٹھنا پڑا ہے اور ترقی کے لئے نئی آمدنی کے ذرائع کی ضرورت ہے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے، لیکن ترقی کا مطلب صرف سرکاری خزانے میں اضافہ نہیں ہوتا۔در اصل حقیقی ترقی وہ ہے ،جو معاشرے کے کمزور طبقات، خصوصاً عورتوں اور بچوں کو تحفظ دے اور ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنائے۔ شراب بندی کے بعد مردوں میں شراب نوشی کی شرح نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ گھریلو تشدد کے کچھ اشارے اور پری ہائیپرٹینشن کی کم شرح اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ معاشرتی فوائد معاشی نقصان سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اگرچہ غیر قانونی شراب کی اسمگلنگ اور زہر آلود شراب کے واقعات تشویشناک ضرور ہیں، لیکن ان کا حل شراب بندی قانون کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کے نفاذ کو مضبوط بنانا ہے۔
سیاسی طور پر بھی حکومت کا موقف قابل فہم ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس قانون کے ذریعے خواتین ووٹرز کا مضبوط اعتماد حاصل کیا تھا۔ انتخابات کے اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جن حلقوں میں خواتین کا ووٹ مردوں سے زیادہ تھا، وہاں این ڈی اے کو واضح برتری ملتی رہی ہے۔ پرشانت کشور جیسے رہنماؤں نے شراب بندی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا ،لیکن اس وعدے پر عوام نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ واضح پیغام ہے کہ بہار میں اس مسئلے پر کوئی بھی حکومت خطرہ نہیں مول سکتی ہے۔ سمراٹ چودھری حکومت کانتیش کمار کے تاریخی فیصلے پر قائم رہنا نہ صرف سیاسی دانشمندی ہے بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔
بہر حال شراب بندی کو صرف آمدنی کے تناظر میں دیکھنا گویا معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو نظر انداز کرنا ہے۔ بہار کی سماجی صورتحال، غریبی، کم تعلیم اور خاندانی ڈھانچے کے مدنظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شراب کی آسان دستیابی معاشرے کی مزید تباہی کا باعث بنے گی۔ جو نقصان ایک بار ہو جائے اسے سالوں کی معاشی ترقی بھی پورا نہیں کر سکتی ہے۔ اس لئے موجودہ حکومت کو ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہنا چاہئے۔ معاشی دلائل اہم ہیں، لیکن معاشرتی تباہی کی قیمت ان سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومت بہار کا یہ فیصلہ نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کے لئے ایک سبق ہے کہ ترقی کے نام پر معاشرتی اقدار کو قربان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ شراب بندی قانون کو برقرار رکھنا ہی دانشمندی اور دور اندیشی کا ثبوت ہے۔