نیپال میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش کی گئی

تاثیر 18 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کاٹھمنڈو، 18 اگست: نیپال کے سنسری ضلع کے دیوان گنج اور سرہا کے گول بازار میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی سرکاری کمیٹیوں نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کر دی ہے۔دیوان گنج گاؤں پالیکا کے کپتان گنج میں 26 جولائی کو ہندو اور مسلم برادری کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے اثرات مدھیش پردیش تک بھی پھیل گئے تھے۔کپتان گنج میں ہونے والی جھڑپ کے دوران تین افراد کی موت ہو گئی تھی۔ سنسری میں گولی لگنے سے کپتان گنج کے رہائشی 30 سالہ اوم پرکاش مہتا، 20 سالہ جے پرکاش مہتا اور 22 سالہ رویندر مہتا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
دوسری جانب سرہا کے گول بازار میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 18 سالہ گنیش یادو کی موت ہو گئی تھی۔ حکومت نے دونوں واقعات کی الگ الگ تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی تھیں اور موقع پر جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ تحقیقات کرائی تھیں۔وزارت داخلہ کے ترجمان اور جوائنٹ سیکریٹری آنند کافلے نے بتایا کہ دونوں کمیٹیوں نے منگل کے روز وزیر داخلہ سدن گرونگ کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ انہوں نے کہا، ’’دونوں کمیٹیوں کی تحقیقاتی رپورٹ موصول ہو گئی ہے۔