تاثیر 20 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع کے پپرا رام لال گاؤں میں ایک قدیم مدرسے کے ایک حصے اور اس سے متصل مسجد کی مسماری نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کا مطلب صرف قانون نافذ کرنا ہے یا قانون کو انصاف، شفافیت اور مساوات کے ساتھ نافذ کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے؟ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مدرسہ سرکاری زمین پر قائم تھا، جس کا ایک حصہ سرکاری ریکارڈ میں کھیل کے میدان کے طور پر درج ہے، اور یہ کارروائی مجسٹریٹ کے حکم کی تعمیل میں کی گئی ہے۔ مدرسہ انتظامیہ کی اپیل بھی 14 اگست کو ضلع مجسٹریٹ کی عدالت سے مسترد ہوچکی تھی۔
یہ حقائق اپنی جگہ اہم ہیں اور کسی بھی غیر قانونی قبضے کو محض مذہبی وابستگی کی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ ہو تو قانون کو اپنا کام ضرور کرنا چاہئے۔ لیکن جمہوری نظام میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ حکومت کسی عمارت کو گرا سکتی ہے یا نہیں؛ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وہی قانون، وہی معیار اور وہی رفتار ہر شہری اور ہر طبقے کے لئے یکساں ہے؟
سدھارتھ نگر کا یہ مدرسہ کوئی راتوں رات تعمیر ہونے والی عمارت نہیں تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ ادارہ تقریباََ 59 سال قدیم تھا۔اس کی جڑیں اس سے بھی پرانی بتائی جاتی ہے۔مقامی باشندگان کا کہنا ہے کہ مدرسہ 1938 میں گاؤں میں قائم ہوا تھا اور بعد میں یعنی 1967 میں مین روڈ سے متصل موجودہ احاطے میں منتقل ہوا تھا۔مدرسے میں تقریباً 400 بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ 14 ہزار مربع فٹ کے احاطے میں ہوئی مسماری کی کارروائی کے دوران سات کمرے، ایک دکان اور ہال کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباََ 60 فیصد منہدم کردیا گیا۔ مدرسے کے نگران عبدالسلام نے انتظامی حکم کو عدالت میں چیلنج بھی کیا تھا۔ چنانچہ مسلم فریق کے اس سوال کو قطعی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہےکہ اتنے قدیم تعلیمی ادارے کو بلڈوز کرنے سے پہلے اس کے متبادل انتظام، بچوں کی تعلیم اور تعمیرات کے ہر حصے کی قانونی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لئے مزید کوئی ہمدردانہ اور حساس طریقہ کیوں نہیں اختیار کیا گیا؟
یہ واقعہ اس لئے بھی تشویش پیدا کرتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے دور میں مذہبی مقامات اور مدارس کے خلاف انہدامی کارروائیوں کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ 2025 میں ریاست کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں مبینہ غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کی خبریں سامنے آئی تھیں، جن میں مدارس، مساجد، مزارات اور عیدگاہیں بھی شامل تھیں۔ اگرچہ حکومت ہر کارروائی کو تجاوزات یا غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانونی مہم قرار دیتی ہے، لیکن ایسے واقعات کی کثرت نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں یہ سوالیہ احساس ضرور پیدا کیا ہے کہ حکمرانی کا بلڈوزر سب سے زیادہ انھی کے دروازوں پر کیوں دکھائی دیتا ہے؟
یہاں حکومت کے لئے بھی ایک اہم سبق ہے۔ وہ یہ کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ کارروائی عدالت یا مجسٹریٹ کے حکم سے ہوئی ہے۔ عوام کو یہ بھی دکھائی دینا چاہئے کہ فیصلہ مکمل ریکارڈ، شفاف سماعت، مناسب نوٹس، مؤثر اپیل اور یکساں قانونی معیار کے بعد ہوا ہے۔ اگر ایک ہی نوعیت کے غیر قانونی قبضوں میں مذہبی شناخت کے اعتبار سے حکومت کا رویہ مختلف نظر آئے تو قانون کی غیر جانب داری کا تصور خود کمزور ہوجاتا ہے۔
مسلمانوں کو بھی یہ اصول تسلیم کرنا ہوگا کہ مسجد، مدرسہ یا مزار ہونے کی وجہ سے کسی غیر قانونی قبضے کو قانونی استثنا حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن ریاست سے ان کا مطالبہ اس سے مختلف اور زیادہ بنیادی ہے۔ اگر قانون سب کے لئے ہے تو اس کا نفاذ بھی سب کےلئے یکساں نظر آنا چاہئے۔ یہی شفافیت حکومت کے لئے بھی بہتر ہے اور معاشرے کے لئے بھی۔
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ قانون کی حکمرانی بلڈوزر کی طاقت سے نہیں، انصاف کے اعتماد سے قائم ہوتی ہے۔ اگر کارروائی واقعی قانون کے مطابق ہے تو حکومت کو اس کے تمام قانونی مراحل اور معیار عوام کے سامنے رکھنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے۔ ورنہ دنیا کو یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی کہ قانون کی حکمرانی کے نام پر ہونے والی کارروائیاں دراصل کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا کر رہی ہیں۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ جمہوریت میں محض انصاف کرنا کافی نہیں؛ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا بھی بہت ضروری ہے۔
**********

