راہل گاندھی اپنی ہندو مخالف مذہبی ذہنیت اور جھوٹا پروپیگنڈہ چھوڑ یں: اویمکتیشورانند سرسوتی

تاثیر 25 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جوشی مٹھ، 25 اگست: جیوتیرمٹھ کے شنکرآچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے منو اسمرتی کے بارے میں بیانات پر سخت اعتراضظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہبی تعلیمات پر تبصرہ کرنے سے پہلے ان کا صحیح مطالعہ اور کن تناظر میں یہ باتیں کہی گئی ہیں ، ان کی معلومات ضروری ہے۔ شنکراچاریہ اویمکتیشورانند نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ راہل گاندھی نے پونے میں ایک پروگرام کے دوران منو اسمرتی اور سناتن ثقافتی نظریات کے بارے میں جو تبصرہ کیا ہے، وہ دھرم شاستروں کی ان کی سطحی سمجھ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے لے کر عوامی فورم تک منو اسمرتی اور دھرم شاستروں کو لے کر بار بار جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن مذہب اورشاستروں پر تبصرہ کرتے وقت حقائق، اس کے سیاق و سباق اور مطالعہ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ شنکراچاریہ نے راہل گاندھی پر زور دیا کہ وہ مستند ذرائع اور اسکالرز کے ذریعے ہندو دھرم شاستروں کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی عوامی طور پر اپنی بات رکھیں۔