شفاف اور ایماندار عمل کی ضرورت

تاثیر 25 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کے دارلحکومت پٹنہ میں کل بروز منگل (25اگست) 70ویں بی پی ایس سی امتحان منسوخ کرانے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کی طلب میں طلبہ کا احتجاج تیزی سے شدت اختیار کر گیا۔ گاندھی میدان سے راج بھون کی جانب مارچ کرتے ہوئے مظاہرین نے پولیس کی بیریکیڈنگ توڑ دی۔جب وہ ڈاک بنگلہ چوراہے تک پہنچ گئے تو یکایک وہاں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ پولیس نے پہلے واٹر کینن کا استعمال کیا، پھر لاٹھیاں بھانجنی شروع کر دیں۔ ایک طالب علم کے سر میں چوٹ آئی، ایک طالبہ بے ہوش ہوگئی اور پتھراؤ میں ٹاؤن ڈی ایس پی بھی زخمی ہوئے۔ کچھ طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انتظامیہ نے چندطلبہ نمائندوں کو چیف سیکریٹری سے ملاقات کرائی، مگر میدان میں موجود طلبہ نے واضح کیا کہ تمام مطالبات مانے بغیر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
ظاہر ہے، یہ واقعہ محض ایک روز کا احتجاج نہیں بلکہ بہار کے نوجوانوں کی طویل المیعاد مایوسی کا اظہار ہے۔ بی پی ایس سی کے 70ویں امتحان میں پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات کوئی نئے نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ٹی آر ای۔4میں دو مرحلوں کے امتحانی عمل اور منفی مارکنگ کے خلاف بھی شدید اعتراض ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ سنگل اسٹیج امتحان کے انعقاد اور منفی مارکنگ ختم کرنے کے ساتھ تمام مقابلہ جاتی امتحانات میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نےوزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر طلبہ کی بات سننے، بی پی ایس سی امتحان کے پرچے ہندی میں لکھنے والے امیدواروں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک ختم کرنے اور تمام زیر التواء بھرتی امتحانات کا شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے جے ڈی یو رہنما شرون کمار اور وزیر تعلیم متھلیش تیواری نے دعویٰ کیاہے کہ طلبہ کے تمام مسائل حل کر دیے گئے ہیں اور بہار میں ریکارڈ بھرتیاں ہو رہی ہیں۔ وزیر موصوف کا یہاں تک کہنا ہے کہ جو لوگ دسویں پاس نہیں، وہ ایگزامنیشن پروسس پر مشورہ نہ دیں۔ظاہر ہے، یہ رویہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ جب نوجوان نو دن سے بھوک ہڑتال پر ہوں اور سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہوں تو ان کی بات کو سیاسی سازش قرار دے کر نظر انداز کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ نوجوان نسل کے اعتماد کو مزید متزلزل کرنے والاہے۔بہار جیسی ریاست میں، جہاں بے روزگاری ایک سنگین حقیقت ہے، مقابلہ جاتی امتحانات ہی بیشتر نوجوانوں کی امید کی آخری کرن ہیں۔ ان میں شفافیت کا فقدان یا تاخیر انہیں سڑکوں پر اترنے پر مجبور کرتی ہے۔
البتہ احتجاج کے دوران بیریکیڈنگ توڑنا، پتھراؤ اور ممنوعہ علاقوں میں داخلے کی کوشش قابلِ قبول نہیں ہے۔ قانون و انتظام برقرار رکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال اس وقت کیا گیا، جب حالات کنٹرول سے باہر ہو چکے تھے۔ اگر ابتدائی مرحلے میں اعلیٰ سطح کی بات چیت ہو جاتی تو شاید ڈاک بنگلہ چوراہہ میدانِ جنگ نہ بنتا۔ طلبہ نمائندوں کی چیف سیکریٹری سے ملاقات ایک مثبت قدم ہے، مگر میدان میں موجود ہزاروں نوجوانوں کو بھی یہ اطمینان ہونا چاہئے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔
بلا شبہ بہارکی ترقی کا دارومدارریاست کے نوجوانوں پر ہے۔ اگرایگزامنیشن پروسس پر اعتماد ختم ہو جائے تو نہ صرف ہنر مند افرادی قوت متاثر ہوگی بلکہ معاشرتی عدم استحکام بھی بڑھے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کا اعلان کرے، ٹی آر ای۔4کے امتحانی ڈھانچے پر طلبہ کے ساتھ کھلی بات چیت کرے اور تمام زیر التواء بھرتیوں سے متعلق امتحانات کا شیڈول جاری کرے۔ طلبہ کو بھی احتجاج کا حق استعمال کرتے ہوئے تشدد سے اجتناب کرنا چاہئے۔
بہر حال ،کل پٹنہ میں پیش آئے واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ نوجوانوں کی پریشانیوں کو صرف سیاسی بیان بازی سے نہیں دبایا جا سکتا ہے۔ شفافیت، بروقت فیصلے اور حقیقی مکالمہ ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ امیدکی جانی چاہئے کہ دونوں فریق سمجھداری سے کام لیں گے تاکہ بہار کے مستقبل ساز نوجوان سڑکوں پر نہیں ، امتحان مراکز میں اپنی قابلیت کا مطاہرہ کرتے اور اپنی قسمت آزما تے ہوئے نظر آئیں۔ویسے حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ اور نوجوانوں کو کسی بھی طرح سےمایوسی کا شکار نہیں ہونے دے۔ان کا اعتماد جیتنے کے لئے اعلانات نہیں بر وقت ایماندار اور شفاف عمل کی ضرورت ہے۔
***********