مرکزی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

تاثیر 26 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

  بھارتیہ جنتا پارٹی میں تنظیمی سطح پر ہوئی حالیہ تبدیلیوں کے بعد اب سب کی نگاہیں مرکزی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل پر مرکوز ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے لئے یہ موقع صرف چند چہروں کی تبدیلی کا نہیں بلکہ 2027 میں ، اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور اورگوا اسمبلی انتخابات اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے مدنظر اپنی ٹیم کو ازسرنو مرتب کرنے کا ہے۔مانا جا رہا ہے کہ  موجودہ صورتحال میں مرکزی کابینہ کے اندر یہ ممکنہ تبدیلیاں سیاسی حکمت عملی، علاقائی نمائندگی اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونے والی ہیں۔
پارٹی صدر نتن نوین کی 65 رکنی نئی قومی ٹیم کے اعلان نے ایک واضح اشارہ دیا ہے کہ بی جے پی اب ایک شخص ایک عہدے کے اصول پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔ موجودہ کابینہ میں 69 وزراء شامل ہیں جبکہ آئینی حد 81 تک ہے۔ اس لحاظ سے حکومت کے پاس مزید تقرریوں کی گنجائش موجود ہے، تاہم 12 نئے چہروں کا امکان کم جبکہ چھ سات نئے ناموں کا شامل ہونا تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔ کچھ عہدے مستقبل کی ضروریات کے لئے محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ ردوبدل میں سب سے زیادہ توجہ ان وزراء پر ہے، جو تنظیمی سطح پر بھی اہم ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ پیوش گوئل کو پارٹی کا قومی خزانچی بنایا گیا ہے جبکہ ہرش ملہوترا کو دہلی بی جے پی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ پنکل چودھری اتر پردیش بی جے پی کے صدر ہونے کے ساتھ مرکزی مالیات کے ریاستی وزیر بھی ہیں۔ اگر ایک شخص ایک عہدے کے اصول کو سختی سے لاگو کیا گیا تو ان میں سے کچھ کی کابینہ سے رخصتی ممکن ہے۔ تاہم 2027 میں یو پی اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے پنکل چودھری کی موجودگی برقرار رہنے کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔
پیٹرولیم وزیر ہردیپ پوری کی صورتحال مختلف ہے۔ ان کی راجیہ سبھا کی مدت 25 نومبر کو ختم ہو رہی ہے اور دوبارہ نامزدگی کے بارے میں اب تک کوئی واضح اشارہ نہیں ملا ہے۔ ایتھنول کے معاملے پر عوامی ناراضگی نے بھی ان کے عہدے کو متاثر کیا ہے۔ اگر وہ کابینہ سے باہر ہوتے ہیں تو حکومت کو عوامی جذبات کو کچھ حد تک مطمئن کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔البتہ نتن گڈکری کا معاملہ سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش پر سوشل میڈیا اور کارکنوں میں شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت انھیں ردوبدل سے دور رکھے گی کیونکہ ان کی برطرفی یا محکمے کی تبدیلی غلط پیغام دے سکتی ہے۔ سنگھ سے ان کے تعلقات بھی ان کی پوزیشن کو مضبوط بناتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
نئے چہروں میں مہاراشٹر سے شریکانت شندے کا نام سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ ایکناتھ شندے کے بیٹے کو کابینہ میں شامل کر کے بی جے پی مہاراشٹر میں اپنے اتحادی کے ساتھ رشتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان جو سرد مہری پیدا ہوئی تھی، اسے دور کرنے کا یہ ایک بہتر موقع ہو سکتا ہے۔یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ علاقائی توازن بھی اس ردوبدل کا اہم پہلو ہوگا۔ یو پی، مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور کرناٹک جیسی ریاستوں کو مناسب نمائندگی دیے جانے کی توقع ہے۔ انوراگ ٹھاکر جیسے نوجوان چہروں کو موقع دینے کے امکان بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق مرکزی کابینہ میں یہ ممکنہ ردوبدل محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہوگا۔ ایک طرف حکومت کارکردگی اور انتخابی تقاضوں کا حوالہ دے گی تو دوسری طرف ناقدین اسے اقتدار کی مضبوطی اور مخالفین کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دے سکتے ہیں۔ ایتھنول جیسے مسائل پر عوامی ردعمل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صرف سیاسی حساب کتاب کافی نہیں، عوامی جذبات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
آخر میں، کابینہ میں ردوبدل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ نئی ٹیم آنے والے انتخابات میں کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں یہ تبدیلیاں ایک طرح سے ان کے سیاسی تجربات، حکمت عملی اور دور اندیشی کا امتحان بھی ہیں۔ اگر علاقائی توازن، نوجوان قیادت اور کارکردگی کے اصولوں کو ترجیح دی گئی تو یہ ردوبدل حکومت کی ساکھ کو مضبوط کر سکتا ہے، جس کی ابھی زیادہ ضرورت ہے۔