تاثیر 29 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھارت میں ریزرویشن کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور سماجی سطح پر گرم ہو چکا ہے۔مرکز ی کابینہ وزرا،چراغ پاسوان اور جیتن رام مانجھی،دونوں کھل کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں۔دونوں کے درمیان کی تلخ کلامی نے نہ صرف باہمی سیاسی رقابت کو عیاں کردیا ہے بلکہ ملک بھر میں جاری ریزرویشن مخالف رجحانات کو بھی نئی شدت دے دی ہے۔ ایک طرف چراغ پاسوان نہ صرف جیتن رام مانجھی بلکہ ان کے بیٹے سنتوش سمن سے بھی استعفیٰ دینے کی بات کہہ رہے ہیں ، تودوسری طرف دہلی کےجنتر منتر پر 21 سے 23 اگست تک ’’ریزرویشن ہٹاؤ‘‘ کے نعرے بلند کئے گئے۔ پھرسپریم کورٹ میں او بی سی کی طرح ایس سی اور ایس ٹی کے ریزرویشن میں بھی کریمی لیئر لاگو کرنے کی بات زور و شور سے کہی جانے لگی ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میںچند عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں۔ یعنی ریزرویشن سے متعلق مجموعی طور پر جومنظرنامہ سامنے ہے، اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے گویا سماجی انصاف، سیاسی مفادات اور آئینی حقوق کے تانے بانے ایک دوسرے سے الجھ گئے ہیں۔
بہارکے دونوں مرکزی وزراء کے درمیان تنازعہ کریمی لیئر کے تصور سے شروع ہو اہے۔ مانجھی ایس سی/ایس ٹی ریزرویشن میں بھی آمدنی پر مبنی کریمی لیئر لاگو کرنے کی بات کرتے ہیں تو چراغ پاسوان نے اسے براہ راست چیلنج کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مانجھی واقعی کریمی لیئر چاہتے ہیں تو پہلے خود اور ان کے بیٹے استعفیٰ دیں۔ چراغ پاسوان اس بات پرزور دے رہے ہیں کہ ریزرویشن کی بنیاد معاشی نہیں بلکہ سماجی اور تاریخی پسماندگی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مسئلے پر بس سیاسی ریاکاری ہو رہی ہے۔
اس سیاسی تکرار کے پس منظر میں 2025-26 میں ریزرویشن مخالف سرگرمیاں تیزی سے سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ دنوں دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں افراد نے’’ریزرویشن ہٹاؤ آندولن‘‘ کے بینر تلے جمع ہو کر تین بنیادی مطالبات رکھے: ریزرویشن کا بنیاد معاشی صورت حال ہو، ایس سی/ایس ٹی/او بی سی میں کریمی لیئر لاگو کیا جائے، اور یو جی سی کے ایکوئٹی ریگولیشنز واپس لیے جائیں۔ سپریم کورٹ میں بھی ایس سی/ایس ٹی ریزرویشن میں کریمی لیئر کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن کی مرکزی حکومت نے نے سخت مخالفت کی ہے۔ حکومت کا بھی یہی موقف ہے کہ ان طبقات کی پسماندگی صرف معاشی نہیں بلکہ صدیوں کے سماجی نابرابری اور امتیازپر مبنی ہے، اس لئے ان پرکریمی لیئر کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ دریں اثناء کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا ہے بیک ڈور سے ریزرویشن ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
ان تمام واقعات میں ایک باریک لیکن اہم نکتہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ریزرویشن مخالف ایک طبقہ از راہ مصلحت کھل کر اس سسٹم کی مخالفت نہیں کرنا چاہتا۔ اس کا مطالبہ ’’ریفارم‘‘ کا ہے اور وہ ہےکریمی لیئر، معاشی بنیاد، اور یکساں مواقع۔ تاہم ماہرین کے مطابق اسی مطالبے کی آڑ میں وہ طبقہ اصل میں ریزرویشن کو یکسر ختم کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے۔ انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ’’اہلیت ‘‘ اور ’’معاشی حیثیت‘‘ کا نعرہ بلند کرنا دراصل اس آئینی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جو سماجی انصاف کے لئے بنایا گیا تھا۔ ایس سی/ایس ٹی طبقات کی پسماندگی نسلوں کے امتیاز اور چھوآ چھوت پر مبنی تھی۔ اس کا تعلق صرف آمدنی سے نہیں تھا۔ اسے معاشی بنیاد پر تبدیل کرنے کا مطالبہ در اصل حقیقی صورتحال کو پس پشت ڈالنا ہے۔
سیاسی جماعتیں بھی اس بحث کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہی ہیں۔ کچھ اسے ووٹ بینک کی سیاست کا ہتھیار بنا رہی ہیں تو کچھ اسے’’سب کا ساتھ‘‘ کے بیانیے میں لپیٹ کر پیش کر رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریزرویشن نہ تو مکمل حل ہے اور نہ ہی اسے جوں کا توں چلایا جا سکتا ہے۔ اس میں اصلاح کی ضرورت ہے،خصوصاً کریمی لیئر کے صحیح نفاذ، شفافیت اور حقیقی مستحقین تک فائدہ پہنچانے کے لئے۔ لیکن اصلاح کے نام پر اسے ختم کرنے کی سازش قبول نہیں کی جا سکتی ہے۔
بھارت کا آئین سماجی انصاف کو بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔ ریزرویشن اسی ستون کا حصہ ہے۔ اگر اس میں تبدیلی لانی ہے تو وہ پارلیمنٹ کے ذریعے کھلے اور شفاف انداز میں ہونی چاہئے، نہ کہ بیک ڈور سے خالی عہدوں، نج کاری اور معاشی بنیاد کے نعرے کے ذریعے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ وہ رقابت کے جذبے سے اوپر اٹھ کر اس حساس مسئلے پر متوازن اور اصولی موقف اختیار کرے۔ سماجی تقسیم کو ختم کرنے کا شاید اس سے بہتر طریقہ کچھ بھی نہیں ہے۔

