بنگلورو کے آرٹ آف لیونگ انٹرنیشنل آشرم میں منعقدہ بہار مہوتسو-2026 کی افتتاحی تقریب

تاثیر 04 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

میں بہار قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار اور وزیراعلی سمراٹ چودری نے شرکت کی
​بہار کی شاندار میراث، ثقافت اور علمی روایت کو عالمی سطح پر پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے: ڈاکٹر پریم کمار

بھاگلپور (منہاج عالم )
بہار قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے بنگلورو میں واقع آرٹ آف لیونگ انٹرنیشنل آشرم میں منعقدہ بہار مہوتسو-2026 کے افتتاحی پروگرام میں محترم وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری، محترم ریاستی صدر جناب سنجے سراوگی اور محترم وزیر جناب جمعہ خان کے ساتھ شرکت کی۔اس موقع پر موجود بہاریوں اور معززین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ آج کا دن ہم سب کے لیے انتہائی فخر، خودداری اور اپنی مالا مال ثقافتی میراث کو یاد کرنے کا موقع ہے۔ بہار صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ہندوستان کی تہذیب، ثقافت، علم، فلسفے اور جمہوری قدروں کی مقدس زمین ہے۔ یہ وہی زمین ہے جس نے دنیا کو علم کی روشنی دی، سچائی اور عدم تشدد کا راستہ دکھایا اور انسانیت کو نئی سمت فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ بہار کی تاریخ جتنی قدیم ہے، اتنی ہی شاندار بھی ہے۔ قدیم دور میں پاٹلی پتر دنیا کے عظیم ترین دارالحکومتوں میں شامل رہا ہے۔ یہ وہی زمین ہے جہاں عظیم شہنشاہ اشوک نے حکومت کی اور جنگ کے بعد امن اور انسانیت کا پیغام پوری دنیا تک پہنچایا۔ ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ بہار کی زمین بھگوان گوتم بدھ کی معرفت کی جگہ (گیان سٹھلی) ہے۔ یہاں سے بدھ مت کا پیغام دنیا کے کئی ممالک تک پہنچا۔ بھگوان مہاویر کی عبادت گاہ بھی بہار ہی رہی، جنہوں نے انسانی معاشرے کو عدم تشدد، سچائی اور رحم دلی کا راستہ دکھایا۔ا نہوں نے بہار کی علمی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس زمین نے عظیم ریاضی داں اور ماہر فلکیات آریہ بھٹ کو جنم دیا، جنہوں نے دنیا کو نئی سائنسی بصیرت عطا کی۔ چانکیہ کی سفارت کاری اور معاشیات آج بھی حکومت اور انتظامیہ کے شعبے میں مشعل راہ ہیں۔ نالندہ اور وکرم شلا جیسی عالمگیر شہرت یافتہ یونیورسٹیاں قدیم زمانے میں علم کے اہم مراکز تھیں، جہاں ملکی و غیر ملکی طلباء تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔
​بہار اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ بہار کو جمہوریت کی ماں ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ویشالی کی مقدس زمین دنیا کی قدیم ترین جمہوری ریاستوں میں سے ایک رہی ہے۔ یہ ہر بہاری کے لیے باعث فخر ہے کہ جمہوری قدروں کی جڑیں ہماری اس مقدس زمین میں ہزاروں سال پہلے ہی قائم ہو چکی تھیں۔
​انہوں نے کہا کہ بہار کی پہچان صرف اس کی شاندار تاریخ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی متحرک فن، ثقافت، لوک روایتیں اور سماجی ہم آہنگی بھی اس کی خاص پہچان ہیں۔ مدھوبنی پینٹنگ نے بہار کے لوک فن کو بین الاقوامی شناخت دلائی ہے۔ میتھلی، بھوجپوری، مگہی، انگیکا اور بجیکا جیسی علاقائی زبانیں بہار کی ثقافتی تنوع اور خوشحالی کی علامت ہیں۔ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ چھٹھ مہاپرو بہار کی ثقافتی بیداری اور فطرت کے ساتھ ہماری عقیدت کی ایک بے مثال مثال ہے۔ سورج کی پرستش کا یہ عظیم تہوار صرف مذہبی عبادات نہیں بلکہ صفائی، نظم و ضبط، مساوات اور فطرت کے ساتھ انسان کے گہرے رشتے کا پیغام دیتا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ بہار کی لوک ثقافت میں لوک گیتوں کی مٹھاس، لوک ناچ کی توانائی اور ہماری روایتوں میں سماجی اتحاد کی زبردست طاقت پوشیدہ ہے۔ بھکاری ٹھاکر کی لوک ڈراما روایت، مہاکوی ودیاپتی کی تخلیقات، سوہر، کجری، چیتا اور دیگر لوک گیت ہماری ثقافتی میراث کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ آج بہار تیزی سے ترقی کے نئے سفر پر گامزن ہے۔ ہماری شاندار ماضی ہمیں ترغیب دیتی ہے اور حال ایک ترقی یافتہ اور خود کفیل بہار کی تعمیر کے لیے پرعزم کرتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہار کی شاندار تاریخ، عظیم شخصیات، فن اور ثقافت سے روشناس کرائیں۔ جدیدیت کی دوڑ میں ہمیں اپنی جڑوں اور ثقافتی قدروں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بہار کے پاس شاندار تاریخ، بے پناہ صلاحیت، مالا مال ثقافت اور سب سے بڑھ کر محنتی اور باصلاحیت نوجوان طاقت ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ بہار کی یہی نوجوان طاقت ریاست کو ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔آخر میں ساز اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے بہار مہوتسو-2026 کے کامیاب انعقاد کے لیے منتظمین اور تمام حاضرین کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام ملک اور دنیا کے مختلف حصوں میں مقیم بہاریوں کو اپنی مٹی، ثقافت اور شاندار میراث سے جوڑنے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔