تاثیر 08 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ( فضا امام):- ادھر اس دیار میں بارش کا سلسلہ ہے ۔پورا شہر جھیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔شہر کے تمام وارڈوں میں نالے کی حالت دیگر گوں ہے۔دوپہر تیز بارش ہوئی ۔ جس سے عام زندگی متاثر ہے۔شہر کے تمام راستوں پر کافی پانی لگ گیا۔ بارش سے فیض اللہ خاں ،سی ایم ساینس کالج،پرانی منصفی ،دربھنگہ میو نسپل کارپوریشن ،دربھنگہ ٹاور،لال باغ ،میر شکار ٹولہ،چونا بھٹی ،لکچھمی ساگر ،خان چوک ،بنگالی ٹولہ ،بلبھدرپور ،نیو بلبھدر پور،ڈی ایم سی ایچ ،ملت کالج ،بی بی پاکر ،اسماعیل گنج، اردو وغیرہ محلےاور علاقے کا بہت برا حال ہے ۔کہیں ایک فٹ تو کہیں دو فٹ پانی جمع ہے ۔جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔کہیں دکانوں میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے ۔پانی کے ساتھ ساتھ پانی کے ساتھ ساتھ نالی کے گندے پانی اور غلاظت نیز کچڑوں کو بھی اس جھیل میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔اس طوفانی بارش کے سبب شہر کی تمام شاہراہوں کا بھی بڑا حال ہے۔موسلادھار بارش کی وجہ سے شہر کے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پانی جمع ہونے کی بڑی وجہ شہر میں نالے کی مناسب نکاسی کا نہ ہونا یا مین نالی کی صفائی کا نہ ہونا ہے۔ شہر میں 3 گھنٹے کی بارش میں مہینوں کی بارش کے برابر پانی جمع ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی متھلانچل کا سب سے بڑا اسپتال ڈی ایم سی ایچ کا بھی برا حال ہے۔ ڈی ایم سی ایچ کا پورا کیمپس بشمول ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ، میڈیسن ڈپارٹمنٹ، پیڈیاٹرکس ڈپارٹمنٹ، گاینیک ڈپارٹمنٹ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ پانی بھر جانے کے باعث علاج کے لیے آنے والے مریضوں، ان کے لواحقین اور ہیلتھ ورکرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مانسون شروع ہونے سے پہلے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ دعویٰ کر رہی تھی کہ اس بار پانی بھرنے کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی جائے گی،لیکن مانسون کی دستک نے کارپوریشن انتظامیہ کے تمام دعووں کی پول کھول دی ہے۔میونسپل کورپریشن اور ضلع انتظامیہ صرف اخبارات میں صفائی کی بات کرتی ہے۔واضح رہے کہ دربھنگہ میونسپل کارپوریشن کا مرکزی دفتر بھی بارش کے پانی کی زد میں آ گیا، جہاں احاطے اور اطراف میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں نکاسیٔ آب کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔

