جنگ مسئلے کا حل نہیں

تاثیر 09 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے گزشتہ روز سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور تیل کی تنصیبات پر میزائل و ڈرون حملے کر کے خطے کو ایک بار پھر شدید تناؤ میں دھکیل دیا ہے۔ ان حملوں میں کم از کم73 افراد زخمی ہوگئے ہیں اور کئی توانائی پلانٹس میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ سعودی توانائی وزارت نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے میں موجود ، دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنیوں میں سے ایک ’’سعودی آرامکو‘‘ سمیت متعدد تیل و توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حوثیوں نے خود ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے آبا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئر بیس اور آبا و جازان میں ’’سعودی آرامکو‘‘  کے مراکز پر حملہ کیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہےجب گزشتہ ماہ جولائی میں چار سالہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد یمن میں سعودی حمایت یافتہ افواج اور حوثیوں کے درمیان تصادم دوبارہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
اِدھربھارت نے ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رن دھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ شہری اور معاشی مقامات پر اس طرح کے حملے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں، کیونکہ ان سے پورے خطےکے امن و سلامتی اور سمندری تجارت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ بھارت نے آبنائے باب المندب میں جہازرانی کی آزادی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آبنائے باب المندب کی اہمیت اس وقت اور بڑھ گئی ہے جب آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے بعد سعودی عرب نے رواں سال کے ماہ مارچ سے جولائی تک اس راستے سے پچھلے سال کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ خام تیل برآمد کیاہے۔ سعودی عرب اب بھی بھارت کو تیل فراہم کرنے والے سرفہرست تین ممالک میں شامل ہے، اس لئے اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کا اثر بھارتی تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اور ترکی نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے سخت الفاظ میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کےلئے ہر ممکن فوجی اقدام اٹھائیں گے۔ امریکہ نے بھی ایران کو واضح تنبیہ کی ہے کہ اگر حوثیوں کی مدد کی گئی تو اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔
یہ سب واقعات ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یمن کا تنازع اب صرف اندرونی نہیں رہا بلکہ خطے کی توانائی سلامتی، سمندری تجارت اور عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ 2015 سے جاری اس جنگ نے پہلے ہی لاکھوں بے گناہ شہریوں کی جانیں لی ہیں، لاکھوں کو بے گھر کیا ہے اور یمن کو انسانی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اب جب جنگ بندی کے بعد دوبارہ آگ بھڑک اٹھی ہے تو دونوں فریق فوجی طاقت کے مظاہرے میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب دفاع کا حق رکھتا ہے، حوثی بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، لیکن نتیجہ صرف تباہی، زخم اور آگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
حقیقت تو یہی ہے کہ جنگ مسئلے کا حل قطعی نہیں ہوتی ہے۔ فوجی کارروائی سے صرف تباہی بڑھتی ہے، نفرت گہری ہوتی ہے اور نئی نسلیں مزید تنازعات کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔ باب المندب جیسے اہم سمندری راستے پر خطرہ نہ صرف سعودی عرب اور یمن بلکہ بھارت سمیت پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ تیل کی فراہمی میں رکاوٹ، قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی غیر یقینی صورتحال سب کےلئے نقصان دہ ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ صرف مکالمہ، ثالثی اور پائیدار جنگ بندی میں ہے۔ اقوام متحدہ کی ثالثی، علاقائی طاقتوں کے مشترکہ اقدامات اور دونوں فریقوں کی جانب سے مذاکرات کی میز پر آنے کی ضرورت ہے۔
بھارت جیسے ممالک جو خطےمیں امن و استحکام کے خواہاں ہیں، انہیں سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ تنازع مزید نہ پھیلے۔ جنگ نے کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا ہے۔ یمن کا بحران بھی صرف امن، رواداری اور باہمی سمجھوتے سے ہی حل ہو سکتا ہے۔بصورت دیگر آگ پھیلتی رہے گی اور اس کی لپٹیں سب کوتباہ کرتی رہیں گی۔
**********