اُجّین کا حساس فیصلہ

تاثیر29 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اجین کی چھتری چوک میں واقع تقریباً ساڑھے چھ سو سال پرانی تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ سمہست 2028 کے مہاکمبھ کی تیاریوں کے تحت سڑک کو وسیع کرنے کے منصوبے کے تحت انتظامیہ کو تعاون دینے کے دباؤ  میں بادلِ نخواستہ یہ کارروائی ایک بار پھر کل سے شروع ہو چکی ہے۔مسجد کے متعلقہ حصے کو ہٹانے میں سات سے آٹھ دن لگ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف مقامی مسلمانوں کے احساسات و جذبات سے وابستہ ہے بلکہ ترقی، مذہبی ورثے اور سماجی ہم آہنگی کے درمیان توازن کے سوال کے طور پر بھی سب کے سامنے ہے۔
شاہی مسجد اجین کی اہم تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ گوپال مندر کے قریب واقع یہ مسجد صدیوں سے مقامی مسلم برادری کی روحانی اور ثقافتی شناخت کا حصہ رہی ہے۔ سڑک توسیع کے منصوبے میں کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک کی سڑک کو چوڑا کرنا مقصود ہے، جس کے دائرے میں دیگر مذہبی مقامات اور رہائشی عمارتیں بھی آ رہی ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ سمہست مہاکمبھ جیسے بڑے دھارمک جُٹان میں لاکھو ں عقیدتمندوں کی آمدورفت کو آسان بنانے کے لئے یہ کارروائی ناگزیر ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی پچھلے دنوں میونسپل کارپوریشن کی کارروائی کے خلاف دائر اپیل کو خارج کر دیا تھا اور کارپوریشن کے نوٹس کے تحت کارروائی کو قانونی طور پر درست قرار دیا تھا۔تاہم، اس فیصلے پر عمل در آمد کے دوران صورتحال بالکل ہموار نہیں رہی۔ پیر کی رات سے ہی مقامی مسلمانوں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا تھا۔ کئی افراد نے ساری رات مسجد میں عبادت اور دعا میں گزاری۔ صبح پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے بعد پتھراؤ کے حالات بھی پیدا ہوئے۔ خواتین نے بھی سڑک جام کیا۔ پولیس کے مطابق دس افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے، جن میں کچھ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والے بھی شامل ہیں۔ ان واقعات نے علاقے میں کشیدگی پیدا کی، لیکن بعد میں صورتحال قابو میں آ گئی۔
اہم بات یہ ہے کہ بالآخر مسجد کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا۔ کمیٹی کے نمائندے فہیم سکندر کا کہنا تھا کہ مسلم سماج سمہست  مہاکمبھ کی تیاریوں سے جڑ ےترقیاتی منصوبے کے عملدرآمد میں تعاون کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر انتظامیہ سڑک سے متصل مسجدکی تقریباً ساڑھے نو فٹ زمین خالی کرانا چاہتی تھی، لیکن بات چیت کے بعد اسے تقریباً تین فٹ تک محدود کیا گیاہے۔ چنانچہ کمیٹی کے رضاکاروں نے خود آگے بڑھ کر متاثرہ حصے کو ہٹانا شروع کر دیا ہے ۔ کچھ ویڈیوز میں دیکھا گیا ہےکہ رضاکار آنسو بہاتے ہوئے یہ کام کر رہے ہیں۔ یہ منظر مقامی مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی کو ظاہر کرتا ہے۔ظاہر ہے، ایک تاریخی عبادت گاہ کے کسی بھی حصے کو اپنے ہاتھوں ہٹانا ان کے لئے آسان نہیں ہے، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔
اس پورے واقعے میں مسلمانوں کے صبر کا پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ احتجاج کے باوجود بالآخر کمیٹی نے تعاون کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے تشدد یا مزید کشیدگی پھیلانے کے بجائے باہمی رضامندی سے کام لینا مناسب سمجھا ہے۔یہ رویہ اسلامی تعلیمات میں صبر اور حکمت کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے،یہ صبر محض خاموشی نہیں بلکہ سماج کے تئیں احساس ذمہ داری کا اظہار بھی ہے۔
تاہم، اس واقعے سے کچھ سنجیدہ سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخی مذہبی مقامات کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟ کیا صرف ایک کمیونٹی کے ورثے کو ہی قربان کیا جائے گا یا دیگر مذاہب کے مقامات پر بھی یکساں معیار اپنایا جائے گا؟  افواہوں کے پھیلنے سے پیدا ہونے والی کشیدگی نے یہ بھی واضح کیا کہ حساس معاملات میں شفاف مواصلات کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
اجین جیسے مذہبی شہر میں سمہست مہاکمبھ جیسے بڑے جمواڑے کی تیاریاں ضرور اہم ہیں، لیکن ان تیاریوں میں سب کے جذبات کا احترام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ شاہی مسجد کا یہ چھوٹا حصہ ہٹانا ترقی کی ضرورت ہو سکتا ہے، لیکن اس سے جڑے جذبات کو قطعی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم برادری نے صبر اور تعاون کا مظاہرہ کر کے ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ اب انتظامیہ پر بھی ذمہ داری ہے کہ اس تعاون کا بدلہ شفافیت، انصاف اور باقی ورثے کے مکمل تحفظ کی صورت میں دے۔ظاہر ہے، ملک کے کثیر المذاہب سماج میں اس طرح کے فیصلو ں پر عمل در آمد آسان نہیں ہوتا۔ سماجی حساسیت سے جڑے ، اجین کے اس واقعے کو شاید بہت دنوں تک نہیں بھلایاجا سکے گا۔
********