تاثیر21 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ارریہ ( مشتاق احمد صدیقی ) بہار حکومت میں رجسٹریشن، آبکاری اور امتناعِ شراب کے سابق وزیر اور چھ مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہونے والے جناب عبدالجلیل مستان ایک سادہ مزاج اور عوام دوست رہنما تھے، جنھوں نے اپنی پوری عوامی زندگی میں غریبوں کا ساتھ دیا، خواہ انتخابی سیاست میں انھیں کامیابی ملی ہو یا ناکامی۔ سورجاپوری ریزرویشن کے مطالبے، 1980ء کی دہائی میں چوری اور ڈکیتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے یا سرکاری بدعنوانی کے معاملات کو روکنے کی کوششوں میں جناب مستان نے فعال اور مؤثر کردار ادا کیا۔ ان خیالات کا اظہار نئی دہلی کے جامعہ نگر میں واقع ڈائنامک انگلش اکیڈمی میں منعقدہ ایک تعزیتی پروگرام میں شرکا نے کیا۔ یہ پروگرام فورم فار انٹلیکچوئل ڈسکورس نے دی وِنگس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقد کیا تھا۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد فورم کے بانی و جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظر امام نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے مرحوم سینئر کانگریسی رہنما کی زندگی کا مختصر خاکہ پیش کیا۔ ڈاکٹر امام نے کہا کہ پورنیہ کے امور اسمبلی حلقے سے چھ مرتبہ انتخاب جیتنے کے باوجود جلیل مستان نے سادہ زندگی گزاری اور مسلسل غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا۔ اس موقع پر اردو کے معروف ماہنامہ آج کل کے مدیر عبدالمنان نے کہا کہ گزشتہ دو انتخابات میں جناب مستان کی شکست درحقیقت امور کے عوام کا نقصان تھی۔ جناب مستان کے آبائی گاؤں سرسی سے تعلق رکھنے والے مولانا منظر محسن نے ان کی سادہ طرزِ زندگی سے متعلق متعدد واقعات بیان کرتے ہوئے اس امر پر بخوبی روشنی ڈالی کہ وہ کس طرح غریبوں کے محبوب اور حقیقی رہنما بنے۔

