تاثیر23 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ممبئی، 23/ اکتوبر (تاثیر بیورو) بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) نے وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس اور حکومت مہاراشٹر کے اشتراک سے ممبئی میں ’’ویسٹ ٹو ویلتھ—اسکیلنگ گوبردھن‘‘ کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس کا مقصد ریاست میں کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کے منصوبوں کو تیز رفتار فروغ دینا اور کچرے کو توانائی و معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے امکانات کو وسعت دینا تھا۔
ورکشاپ میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ افسران، صنعت کاروں، مالیاتی اداروں، شہری بلدیاتی اداروں، کسان تنظیموں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر میونسپل کچرے، زرعی باقیات، مویشیوں کے گوبر اور چینی ملوں سے حاصل ہونے والے پریس مڈ کے استعمال سے صاف توانائی پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
بی پی سی ایل کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سنجے کھنہ نے کہا کہ سی بی جی منصوبے کچرے کو قابل قدر وسائل میں تبدیل کرنے کے ساتھ ماحولیات کے تحفظ، پائیدار زراعت اور دیہی روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مہاراشٹر کے چیف سکریٹری راجیش اگروال نے بھی زرعی باقیات اور شہری کچرے کے مؤثر استعمال کو صاف توانائی کے فروغ کے لیے ضروری قرار دیا۔
ورکشاپ میں گوبردھن اسکیم، سی بی جی پالیسی، سرمایہ کاری، مالی معاونت، خام مال کی دستیابی اور منصوبوں کی منظوری کے عمل کو آسان بنانے جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی و ریاستی حکومتوں، کسانوں اور صنعتی اداروں کے درمیان بہتر تال میل سے کچرے کو توانائی اور معاشی خوش حالی کے ایک مؤثر ذریعہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

