عرب پارٹیاں فیصلہ کن پوزیشن میں

تاثیر30 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اسرائیل کے حالیہ عام انتخابات کے نتائج نے ملک کی سیاست میں ایک واضح پیغام دے دیا ہے۔ نہ تو وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دائیں بازو اتحاد کو اکثریت مل سکی ہے اور نہ ہی ان کے حریف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں یہودی اپوزیشن کو- 120 رکنی کنیست (پارلیمنٹ) میں اکثریت کے لئے 61 نشستیں درکار ہیں، مگر نیتن یاہو کا اتحاد صرف 53 اور آئزن کوٹ کا بلاک 48 نشستوں پر رک گیا ہے۔ اس سیاسی جمود میں دو عرب پارٹیاں،جوائنٹ لسٹ اور یونائیٹڈ عرب لسٹ (راعم)،غیر متوقع طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ان دونوں نے مل کر ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کرکے حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہیں۔
یہ نتیجہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ عرب اسرائیلی آبادی تقریباً پانچویں حصے پر مشتمل ہے، مگر ماضی میں ان کی ووٹنگ شرح اکثر کم رہی۔ اس بار عرب ووٹرز بڑی تعداد میں باہر نکلے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس ملک میں اپنی آواز اور حق چاہتے ہیں۔ جوائنٹ لسٹ اور راعم کی کامیابی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ عرب کمیونٹی انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی وزیر اتمار بن گویر کو اقتدار سے باہر رکھنے کی خواہش رکھتی تھی۔ بن گویر پر نسل پرستی اور فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزامات لگتے رہے ہیں، جن کی وجہ سے کئی مغربی ممالک نے ان پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔
نیتن یاہو کے لئے یہ نتیجہ خاص طور پر تکلیف دہ ہے۔ ان کا اتحاد گزشتہ پارلیمنٹ کے مقابلے میں 15 نشستیں کم لے کر آیا ہے۔ 7 اکتوبر، 2023 کے حماس حملوں اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران سے جڑے تنازعات کے بعد یہ پہلا عام انتخابات تھا۔ لوگ سیکیورٹی ناکامیوں کی جوابدہی، جنگوں کے طریقہ کار اور انتہائی مذہبی حلقوں کی فوجی بھرتی جیسے مسائل پر فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔ نیتن یاہو نے شروع میں ایگزٹ پولز کے بعد بڑے اکثریت کا دعویٰ کیا تھا، مگر حتمی نتائج نے ان کے دعوے کو جھٹکا دے دیا ہے۔ جب واضح ہو گیا کہ اکثریت نہیں مل رہی تو لیکوڈ پارٹی نے عرب پارٹیوں پر ووٹ چرانے، رشوت اور غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات لگانے شروع کر دئے ہیں۔ قطر اور ترکی سے فنڈ ملنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں،جنہیں دونوں عرب پارٹیوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ قطر نے بھی انہیں مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ اپوزیشن نے ان الزامات کو نتیجے پلٹنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اس بار یہودی اپوزیشن کی کارکردگی بھی اچھی نہیں رہی ہے۔ آئزن کوٹ نے پہلے ایگزٹ پولز کی بنیاد پر حکومت کی تبدیلی کا دعویٰ کیا تھا، مگر حتمی نتائج میں ان کا بلاک 48 نشستوں پر محدود رہ گیا۔ ان کے اتحاد میں شامل کچھ دائیں بازو کے ارکان عرب پارٹیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ آئزن کوٹ خود بھی ماضی میں اس طرح کے اتحاد پر شرائط عائد کر چکے ہیں، جن میں اسرائیل کو یہودی اور جمہوری ریاست تسلیم کرنا اور حماس کو دہشت گرد قرار دینا شامل ہے۔ اس صورت حال میں اپوزیشن کے پاس بھی کوئی واضح راستہ نہیں۔
اب تین ممکنہ راستے باقی ہیں۔ پہلا، نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کی قومی یکجہتی حکومت۔ دوسرا، نیتن یاہو کی قیادت میں کوئی نیا دایاں اتحاد۔ تیسرا، آئزن کوٹ کی قیادت میں حکومت جسے عرب پارٹیاں باہر سے یا اندر سے حمایت دیں۔ آخری آپشن سب سے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہودی دائیں بازو کے حلقے عرب پارٹیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے اشتراک کو اسرائیل کی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے، صدر ہرزوگ حکومت سازی کے سلسلے میں اب تمام جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو دوبارہ انتخابات کا امکان بھی موجود ہے۔
بہر حال اس بار کے عام انتخابات اسرائیل کی سیاست میں عرب کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔عرب کمیونٹی اب صرف ووٹ ڈالنے والے نہیں بلکہ حکومت سازی کا فیصلہ کن کردار بن گئی ہے۔ نیتن یاہو کی ناکامی اور یہودی اپوزیشن کی کمزوری نے ملک کو ایک ایسے سیاسی جمود میں دھکیل دیا ہے، جہاں بغیر عرب پارٹیوں کے کوئی مستحکم حکومت ممکن نظر نہیں آرہی ہے۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ اسرائیلی قیادت اس نئی حقیقت کو کس طرح قبول کرتی ہے یا اسے مسترد کرنے کے لئے کون سا حربہ استعمال کرتی ہے۔