گنگا آبی معاہدے پر بنگلہ دیش میں سیاسی محاذارائی عروج پر، ہندوستان کی ٹرانزٹ سہولت پر پابندی لگانے کا مطالبہ

تاثیر2 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈھاکہ، 02 نومبر : بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سربراہ ناہید اسلام نے دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کو لے کر ہندوستان کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش کو گنگا کے پانی میں اس کا مناسب حصہ نہیں ملتا ہے تو ہندوستان کو بنگلہ دیش کے راستے سامان کی آمدورفت اور ٹرانزٹ کی سہولت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان کی پارٹی ایک بار پھر فرکا تک لانگ مارچ نکالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے حکمراں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو بھی خبردار کیا کہ اگر اس نے امتیازی رویہ جاری رکھا تو اسے بھی عوامی لیگ جیسی سیاسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے انگریزی روزنامہ ’دی ڈیلی اسٹار‘ کے مطابق، ناہید اسلام نے اتوار کو ڈھاکہ کے کھامارباری واقع کرشی بد انسٹی ٹیوشن بنگلہ دیش میں ’جاتیہ یوبو شکتی‘ کی جانب سے منعقدہ قومی یوتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات کی بنیاد پانی کی منصفانہ تقسیم اور سرحدی تحفظ ہونا چاہیے۔
ناہید نے کہا، ’’اگر بنگلہ دیش کو پانی نہیں ملے گا تو ہندوستانی سامان بھی بنگلہ دیش میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ کوئی کوریڈور نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی ٹرانزٹ ہوگا۔‘‘ انہوں نے ہندوستان کو کسی بھی طرح کی غیر قانونی کوریڈور یا ٹرانزٹ سہولت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ تعلقات میں بنگلہ دیش کے قومی مفادات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
گنگا آبی تقسیم معاہدہ دسمبر میں ختم ہونے والا ہے۔ اس کے پیش نظر این سی پی سربراہ نے کہا کہ نئے معاہدے میں بنگلہ دیش کے حصے کے پانی کی ضمانت کے ساتھ دریا میں جہاز رانی کی سہولت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اس دوران انہوں نے مولانا عبد الحمید خان بھاشانی کے تاریخی فرکا مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی بھی ضرورت پڑنے پر فرکا کی جانب ایک اور لانگ مارچ منعقد کرے گی۔