کولکاتا میں بڑا طیارہ حادثہ ٹلا، شیلانگ جانے والی انڈیگو پرواز کا انجن فیل، رکن پارلیمنٹ سمیت 67 مسافر تھے سوار

تاثیر2 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا، 02 نومبر: کولکاتا سے شیلانگ جا رہی انڈیگو ایئرلائنز کی ایک پرواز کے مسافر اس وقت بڑے حادثے سے بال بال بچ گئے، جب رن وے کی جانب بڑھتے وقت طیارے کا ایک انجن اچانک فیل ہو گیا۔ اس طیارے میں تین ارکان پارلیمنٹ سمیت مجموعی طور پر 67 مسافر سوار تھے۔ اس واقعے کے باعث مسافروں کو تقریباً دو گھنٹے تک طیارے کے اندر ہی انتظار کرنا پڑا، جس کے بعد پائلٹ نے پرواز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے میں مبینہ لاپروائی کو لے کر شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق پیر کو انڈیگو کی پرواز نمبر 6E 7423 کو کولکاتا کے نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے سے شیلانگ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اس طیارے میں ڈی ایم کے کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پی ولسن سمیت دو دیگر ارکان پارلیمنٹ بھی سوار تھے، جو ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی عوامی سماعت میں شرکت کے لیے شیلانگ جا رہے تھے۔ رکن پارلیمنٹ ولسن نے سوشل میڈیا کے ذریعے بتایا کہ طیارہ پارکنگ بے سے رن وے کی جانب بڑھ رہا تھا، تبھی اچانک رک گیا۔ جانچ کرنے پر معلوم ہوا کہ طیارے کا ایک انجن کام نہیں کر رہا ہے۔ پرواز بھرنے سے عین قبل پائلٹ کو مجبوراً انجن بند کرنا پڑا۔
الزام ہے کہ انجن میں خرابی آنے کے باوجود مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے بحفاظت باہر نہیں نکالا گیا۔ انہیں تقریباً دو گھنٹے تک طیارے کے اندر ہی انتظار کرنا پڑا۔ بعد میں پائلٹ نے اعلان کیا کہ تکنیکی خرابی کے باعث پرواز منسوخ کی جا رہی ہے۔ اس واقعے سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ رکن پارلیمنٹ ولسن نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تکنیکی خرابی فضا میں پرواز کے دوران پیش آتی تو اس کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے تھے۔