مریض سےنہیں مرض سےنفرت کریں:- ایڈووکیٹ دیویندرمشر۔

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14th Jan.

 آل انڈیاپیام انسانیت فورم ارریہ کی جانب سے جذام محلہ میں گرم ملبوسات اور کمبل تقسیم۔
ارریہ :-  ( مشتاق احمد صدیقی ) “آل انڈیاپیام انسانیت فورم” ارریہ کےکارکنان وذمہ داران  نےجنوری کی اس  سردلہراور ٹھٹھرتی ہوئی ٹھنڈسےلوگوں کوراحت دلانےکےغرض سے ٹول پلازہ کےپاس ہریاموڑبالاپنچایت وارڈ 12 میں واقع کسٹھ روگ آشرم مدرٹیریسانگرارریہ میں باقاعدہ کیمپ لگاکرقریب سوسےزائدلوگوں کےبیچ گرم ملبوسات سمیت کمبل تقسیم کر انسانیت کا درس دیا۔ اور اس موقع پر فورم کے ہندو مسلم  قوم پر مشتمل آل انڈیا پیام انسانیت فورم کے عہدے داران نے بنفس نفیس کوڑھ جیسےسنگین مرض میں مبتلا لوگوں کی خبرخیریت معلوم کیں اور نہیں تسلی دی کہ جس پاک پروردگار نے آپ کو اور ہم کو پیدا فرمایا ہے اور حالات بھی پر بھی اسی پروردگار عالم کا قبضہ ہے، اس لئے نامساعد حالات سے گھبرانا نہیں چاہیئے، ایسے ناموافق حالات سے وہی خلاق عالم نکالےگا اور اپنے بندوں کے ذریعے وہ خالق کائنات اپنے بندوں کی ضروریات کو ویسی جگہ سے پوری کرتا ہے، جو اس مالک کے ماسوا کوئی نہیں جانتا ہے۔ اس تعلق سےجب پیام انسانیت فورم ارریہ کےذمہ داران سےپوچھاگیاتوضلع صدرایڈووکیٹ دیویندرمشرنےبتایاکہ یہ پہلا موقع نہیں ہےجو ہم کمبل تقسیم کرنےکےلئےیہاں آئےہیں،ہماری  رفاہی تنظیم یہ کام کئی سال سے کررہی ہے،جہاں بھی جس طرح کی بھی ضرورت پڑتی ہےبلاتفریق مذہب وملت دوائی،کمبل،کپڑےوغیرہ لیکرپہونچنےکی کوشش کرتی ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ ہمارا یہ مانناہےکہ ہمیں مریض سےنہیں مرض سےنفرت کرنی چاہئیے جبکہ “پیام انسانیت فورم”  کےضلع سکریٹری مولانامصورعالم ندوی چترویدی  نےکہاکہ ہماری نظر صرف ضرورت مندوں پررہتی ہے،فرقہ،ذات،مذہب،تندرست اوربیمارپرنہیں۔
یہ ہماری سعادت مندی ہےکہ ہمیں سماج  سےغربت ولاچارگی کی زندگی گذاررہےایسےلوگوں کی خدمت کرنےکاموقع مل رہاہے، جوواقعی ضرورت مندہیں۔ کوڑھ جیسےمرض میں مبتلالوگوں کی خبرخیریت معلوم کرنےکےلئےتحریک کےکارکنان وذمہ داران کایہاں آناجانالگارہتاہے،ہم لوگ اس بستی کی چوطرفہ ترقی چاہتےہیں، اسی مقصدسےہم یہاں پر 15اگست اور26جنوری کے موقع پر پرچم کشائی یعنی جھنڈابھی پھہراتےہیں۔ ہم لوگ سول سرجن  صدرہاسپیٹل ارریہ اورسی ڈی پی او ارریہ سےمل کر  انکےمستقل علاج ومعالجہ کےساتھ  اس بستی کےبچوں کی مستقل تعلیم کےنظم پربھی غورکررہےہیں۔ہم اس پرکام بھی کررہےہیں ان شاءاللہ بہت جلد کامیابی ملےگی۔ اس موقع پر سابق  آرمی رنجیت سنگھ نےکہاچند سانسوں کی یہ دنیانہ جانےکب ختم ہوجائے؟  لیکن ہم ایسے ضرورت مندوں کےلئےجوکچھ کرجائیں گےوہ کبھی ختم ہونےوالا نہیں ہے، وہی ہماری اصل پونجی ہے، یہی سوچ کرہم اس کام کوکررہےہیں اوراس موقع پر علاقے کے نامور عالم دین مفتی ہمایوں اقبال ندوی استاد الادب مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ، جمعیت علماء ہند کے نائب سکریٹری اور اسی آل انڈیا پیام انسانیت کے اہم ستون نےکہافورم کامقصدغریبوں اورضرورت مندوں کی ضرورت کی تکمیل ہے، ہمیں خوشی ہےکہ ہماری یہ تحریک  پیام انسانیت فورم ارریہ پہلے دن سےہی اس موضوع پرکام کررہی ہے اورہم اس میں کامیاب ہیں۔ گرم ملبوسات اور کمبل تقسیم کےاس پروگرام کوازاول تاآخر کامیابی سےہمکنارکرانےمیں تحریک کے جن کارکنان ورذمہ داران نے نمایاں کردارانجام دیا ان میں مفتی راغب عالم قاسمی، مولاناعنایت اللہ ندوی، مولا‌ناسرورعالم ندوی،راج کشوریادوعرف منگل پانڈے،چپویادو وغیرھم کےنام قابل ذکرہیں۔