بجلی بل میں اضافہ کو لیکر ایوان میں اپوزیشن کا ہنگامہ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24th March

پٹنہ ، 24 مارچ :بہار میں جمعرات کے روز بجلی کی قیمتوں میں 24.10 فیصد اضافے کو لے کر جمعہ کے روز بہار قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی کی طرف سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، بی جے پی ایم ایل اے نے بہار کے بجلی بل میں مجوزہ اضافے کو لے کر زبردست ہنگامہ کیا۔ رپورٹنگ ٹیبل پٹک دیا۔ جس کے بعد اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ یہ ا?مرانہ رویہ نہیں چلے گا، ا?پ لوگ ا?مرانہ رویہ اپنا رہے ہیں۔ جس کے بعد اپوزیشن لیڈر وجے کمار سنہا کو بولنے کا موقع دیا گیا۔
وجے سنہا نے کہا کہ بجلی کے بل کا فیصلہ غلط ہے، حکومت مجوزہ اضافہ واپس لے۔ وہیں وجے سنہا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے محکمہ کے وزیر وجیندر یادو نے کہا کہ اضافہ واپس نہیں لیا جائے گا۔ اس سے غریبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔دراصل ا?ج صبح سے ہی بہار میں بجلی کے بل میں اضافے کی تجویز کو لے کر بہار قانون ساز اسمبلی کے اندر بی جے پی کی طرف سے ہنگامہ کیا جا رہا تھا۔ اس کے بعد جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بجلی کے بل میں اضافے سے صنعتوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی متاثر ہوں گے۔ اس لیے حکومت بجلی میں اضافہ واپس لے۔
اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر توانائی وجیندر پرساد یادو نے کہا کہ بجلی کے بل میں اضافے کا فیصلہ ریگولیٹری بورڈ کرتا ہے۔ یہ واجپئی کے دور میں تھا جب ریگولیٹری کمیشن کو بجلی کے بل پر فیصلہ لینے کا حق دیا گیا تھا۔ چار سال تک کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ بجلی کے بل میں اضافے سے دیہی غریبوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہم لوگ اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جمعرات کے روز بہار الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے بجلی کی شرح میں اضافے کو منظوری دی تھی۔ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے بجلی کے شرح میں 24.10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔ فی یونٹ بجلی کی شرح حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ بجلی کمپنیوں نے ریٹ 40 فیصد بڑھانے کی تجویز دی تھی۔ طے شدہ چارج کو دوگنا کرنے کی تجویز دی گئی۔ تجویز میں پاور کمپنیوں نے بجلی کی سپلائی کی قیمت میں اضافے کی دلیل دی تھی تاہم کمیشن نے کمپنیوں کی تجویز کو قبول نہیں کیا۔