TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –13 MAY
قول و فعل کا تضاد ہمارا ایک بڑا مسئلہ اور معاشرے کے لیے تباہ کن خصلت ہے۔ یہ تضاد ہی سماج کو برباد کردیتا اور برائی کو فروغ دیتا ہے۔ ایک سچے مسلمان کا عمل مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے قول و فعل میں مطابقت ہونی چاہیے ، وہ جو کہے، وہی کرے۔ دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، جو صرف باتیں نہیں، بلکہ عمل کرتی ہیں اور ان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ جن افراد اور اقوام کے ارادے صرف با توں تک محدود ہوں، ان میں عمل نہ پایا جاتا ہو، انھیں کبھی کامیابی نہیں ملتی ۔ انھیں رسوائی ملتی ہے۔ان کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے اور دنیا میں ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ قول و فعل میں تضادکو اگرمنافقت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ منافقت یہی تو ہے کہ دِل ودماغ میںجو سوچ ہو، زبان سے اْس سوچ کا برعکس اظہار کیا جائے۔ قول و فعل کا تضاد ہمیں بحیثیت قوم پستی کے اس مقام تک لے آیا ہے ، جس سے نکلنا بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔ اسلام میں قول و فعل کے تضادکی مذمت بڑے واضح انداز میں کی گئی ہے۔صورۃ’’ الصف‘‘ کی آیت نمبر ۔2 میں اللہ تبارک وتعالیٰ مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے خود پوچھتا ہے ’’ اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔‘‘
آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ہم اس سے جہاں اپنے کئی مقاصد حاصل کرتے ہیں، وہیں اپنی اور معاشرے کی اصلاح کاکام بھی لیا جاسکتا ہے۔ برائی میں کمی لاسکتے ہیں اور اچھائی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ہم بہت سی نصیحت آموز اور اچھی اچھی باتیں شیئر ضرور کرتے ہیں، لیکن ان باتوں پر خود عمل نہیں کرتے۔ عملی زندگی میں ان اچھی اچھی باتوں کا اثر ہماری اپنی ذات پر کہیں دور دور تک بھی دکھائی نہیں دیتا۔ یہی قول و فعل کا تضاد ہے۔ آج زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے، جوقول و فعل کے تضاد سے دوچار نہ ہو۔ قول و فعل کا تضاد ہر جگہ نظر آتا ہے اور ان منافقانہ رویوں کا سامنا ہمیں ہر میدان میں کرنا پڑتا ہے۔
ہم خود کو سچا مسلمان قرار دیتے ہیں، لیکن اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہر برائی ہم میں موجود ہے۔ ہر چیز میں ہم ملاو ٹ کرتے ہیں، اس ملاوٹ سے کوئی بیمار ہوجائے یا کسی کی جان چلی جائے۔ معاشرے کو جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ، وہ بازار سے غائب کردیتے ہیں تاکہ مہنگے داموں فروخت کی جائے۔ہم لوگ رشوت کو اپنا حق سمجھ کر لیتے ہیں۔ جس کا جتنا اور جہاں بس چلتا ہے، دولت سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے، یہ چاہے حلال ذریعے سے ہو یا حرام ذریعے سے، کسی کا حق مار کے حاصل کی جائے یا کسی کو دھوکا دے کر یا نقصان پہنچا کر حاصل کی جائے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ملازم تنخواہ پوری لیتا ہے اور ڈیو ٹی پوری نہیں کرتا۔ آفیسرز اپنے ماتحتوں کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں۔ طاقتور کمزوروں پر ظلم کرنا اور انھیں تنگ کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔
ہم اختلاف رائے کی وجہ سے دوسروں پر گھناؤنے الزام لگا کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ مسلکی اور دیگر عصبیتوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پالتے ہیں۔ بہت جلد برداشت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بات پر لڑ پڑتے ہیں۔ معاشرے میں عورتوں اور بچیوں تک کی عزتیں محفوظ نہیں۔ بچوں کو اغوا کر کے بیچ دیتے ہیں۔ عورتوں کو وراثت میں ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جہیز کے نام پر عورتوں پر ظلم کرتے ہیں، ہر قسم کا نشہ معاشرے میں عام ملتا ہے۔
بدکاری، چوری، ڈاکے کرنے والے افراد بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ مجرموں کو سزا دینے والے افراد ہی انھیں تعاون فراہم کرتے ہیں۔ اقتدار اعلیٰ سے لے کر چھابڑی والے تک لوگ اپنے اختیارکا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ملک کی باگ ڈور سنبھالے سیاست دانوں سے لے کر معاشرے کی اخلاقی و مذہبی تربیت کے ذمے دار علمائے کرام تک کوئی بھی ٹھیک سے اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہا ہے۔جھوٹ، مکر، فریب، غیبت ، بخیلی، تنگ دلی، ناانصافی، فضول گوئی، بے صبری، خودنمائی، خود ستائی، دروغ گوئی، وعدہ خلافی، رازکی سبوتاژی، دشنام طرازی، لڑائی جھگڑے، آبروریزی، ایذارسانی، نفرت، ظلم، غصہ، تخریب کاری، چغل خوری، حرام کاری، کام چوری، ہٹ دھرمی، ناپ تول میں کمی، حرص ، ریاکاری اور منافقت سمیت ہر برائی کی ہم مذمت کرتے ہیں، لیکن یہی تمام برائیاں ہم میں پائی جاتی ہیں۔
اس سب کچھ کے باوجود ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سچے مسلمان ہیں، اگر ہم سچے مسلمان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں قول و فعل کےتضاد کو ختم کرنا ہوگا اور قدم قدم پر اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے قول و فعل میں ہم آہنگی پیداکرنا ہوگی۔ قول وفعل کا تضاد ہمیں پاکیزگی سے دور کر دیتا ہے۔ قول و فعل میں مطابقت زندگی میں سکون لاتی ہے اور ہمیں کامیابیوں سے نوازتی ہے۔لہٰذا، ہمیں قدم قدم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کو دل و دماغ میں سنبھال کر رکھنا چاہئے اور خود سے بھی یہ پوچھتے رہنا چاہئے کہ ’’تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔‘‘
*************************

