TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –22 MAY
سری نگر، 22 مئی: تین روزہ جی-20 ٹورازم ورکنگ گروپ کا اجلاس آج (پیر) جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں شروع ہوگا۔ 1986 کے کرکٹ میچ (انڈیا-آسٹریلیا ون ڈے میچ) کے بعد کشمیر میں یہ پہلا بڑا بین الاقوامی ایونٹ ہے۔ بھارت اس تقریب کے ذریعے دنیا کو کشمیر کی خوبصورتی سے روشناس کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستان اس سال جی-20 سربراہی اجلاس کی صدارت کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے لیے اب تک بدنام وادی کشمیر میں منعقد ہونے والے اس پروگرام پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔
اس اجلاس میں 60 غیر ملکی مندوبین کے علاوہ ملک بھر سے سیاحت سے متعلق مختلف تنظیموں کے 65 کے قریب نمائندے شرکت کریں گے۔ اس کا اہتمام سری نگر کی ڈل جھیل پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کی دھمکیوں کے پیش نظر مہمانوں کی سیکورٹی کے لیے بے مثال انتظامات کیے گئے ہیں۔پرامن، محفوظ اور قابل اعتماد ماحول میں میٹنگ کے انعقاد کے لیے بحریہ کے مارکوس کمانڈوز، این ایس جی کمانڈوز، جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیاں مصروف ہیں۔تقریب گاہ کے ارد گرد ایک ہزار سی سی ٹی وی فعال ہیں۔تقریب گاہ کے آٹھ کلومیٹر کے اندر آنے والے علاقے کو نو فلائنگ زون قرار دیا گیا ہے۔
میٹنگ کے آخری دن بدھ کے روز تمام مہمان سری نگر شہر کے پولو ویو، جھیلم ریور فرنٹ اور کچھ دیگر مقامات کی سیر وسیاحت کرکشمیر میں آئی مثبت تبدیلی کا تجربہ کریں گے۔ جی-20 کے 20 رکن ممالک میں سے چین، ترکیہ اور سعودی عرب فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ چین نے اروناچل پردیش میں منعقدہ جی-20 کانفرنس سے بھی فاصلہ برقرار رکھا تھا۔
جی۔ 20 کے چیف کوآرڈینیٹر ہرش وردھن شرنگلا نے کہا ہے کہ یہ جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والا سب سے اہم پروگرام ہے۔ اس ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پہلے کی دو میٹنگوں کے مقابلے میں ہمارے پاس غیر ملکی مندوبین کی سب سے زیادہ نمائندگی ہے۔ پہلی میٹنگ فروری میں گجرات کے رن آف کچھ میں اور دوسری اپریل میں مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں ہوئی تھی۔ شرنگلا نے کہا کہ ہندوستان اپنی جی۔ 20صدارت کے نصف مرحلے پر ہے۔ اب تک ہم نے رن آف کچھ سے کوہیما تک اور کنیا کماری سے اور اب کشمیر تک 118 میٹنگ کی میزبانی کی ہے۔ سیاحتی مقامات کو فروغ دینے میں فلموں کے کردار کو بروئے کار لانے کے لیے ‘فلم سیاحت پر قومی حکمت عملی’ کا مسودہ بھی پیش کیا جائے گا۔