لائبریرین شپ ٹریننگ پر خدا بخش لائبریری میں پروگرام

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –9  MAY

کتابوں کے تحفظ، اور ان میں محفوظ علم کے پھیلاؤ پر ورکشاپ میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا کی شرکت

پریس ریلیز، پٹنہ: ۹مئی ۲۰۲۳ء :
آج خدا بخش لائبریری میں منعقدہ ’’لائبریرین شپ پروگرام‘‘ میں دیش کی مختلف یونیورسٹیوں سے طلبا اور اساتذہ نے شرکت کی۔ ان میں مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ یونیورسٹی، ایشین انٹرنیشنل یونیورسٹی منی پور، ایکلویہ یونیورسٹی بھوپال سے لائبریری سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے سو سے زائد طالب علموں اور دانشوروں نے لائبریری کے زیر اہتمام منعقدورکشاپ میں حصہ لیا، جن کو خدا بخش لائبریری کی خدمات اور لائبریری سائنس سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
خدا بخش لائبریری برسوں سے علم کی روشنی پھیلانے کا کام کر رہی ہے۔یہ ایک لائبریری کے ساتھ ساتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی ہے جہاں مسلسل تحقیق و تدوین کا کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لائبریری نے یہ سلسلہ بھی رکھا ہے کہ آنے والے، نئی نسل کے لائبریرینس کی کونسلنگ اور ٹریننگ کا کام بھی ساتھ ساتھ کرتی رہے تاکہ مختلف یونیورسٹیوں سے لائبریری سائنس کے کورس کرنے والے طلبا کو عملی طور پر کسی لائبریری میں کام کرنے کے طور طریقوں سے بھی واقف کرایا جائے۔ اس سلسلے میں لائبریری نے کئی درجن طلبا کو ٹرینڈ کیا ہے۔ پچھلے ہفتے لائبریری نے قریب تیس طلبا کے لیے لائبریری، اس کے مقاصد، تحفظ کتب اور کاغذ کے پروڈکشن ورکشاپ کرائی۔
اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنے لکچر میں بتایا کہ لائبریرین شپ ایک مقدس پیشہ (Profession) ہے جس کے ذریعہ سماج اور معاشرہ کو خوشگوار ماحول میں بدلا جاسکتا ہے، انسان دوستی اور ذہنی ہم آہنگی کی جوت جگائی جاتی ہے۔ اس ورکشاپ میں اس بات کی بھی جانکاری دی گئی کہ مختلف موضوعات پر اچھی کتابوں کا انتخاب اور اس کی حصولیابی اپنے آپ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سے بھی اہم یہ ہے کہ حاصل کردہ کتابوں کا بڑے پیار سے تحفظ کرنا ہے۔ ان طالب علموں کو لائبریری کے مختلف شعبہ جات: مخطوطات، مطبوعات، رسائل، آڈیو، ویڈیو، ڈیجی ٹائزیشن، شعبہ نشر و اشاعت، کیٹلاگنگ (Acquisition & Accession)، ریفرنس سروس،Lending Section وغیرہ کی معلومات فراہم کی گئیں۔ لائبریری سائنس کے طلبا کو سمجھایا گیا کہ یہ علم اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے توسط سے نظم و ضبط کا سلیقہ آجاتا ہے جس سے ہماری زندگی ہمیشہ ہموار رہتی ہے۔ آپ جو تعلیم رسمی یا غیر رسمی طریقے سے حاصل کرتے ہیں، اس کا فائدہ اسی وقت ملے گا جب اس کو آپ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ لائبریری ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جس طرح متعدد مذاہب اور مختلف ادبیات کی کتابیں ایک جگہ رہتی ہیں اور آپس میں کبھی نہیں جھگڑتیں، اسی طرح ہمیں بھی سماج میں رہنا چاہئے کہ کسی کو کسی سے تکلیف نہ ہو۔عزت نفس بڑی چیز ہوتی ہے، اگر ہم نے ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھا تو کبھی بھی ذہنی کدورت پنپنے نہیں پائے گی۔ لائبریری میں رکھی مختلف کتابیں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھنا ہے تاکہ سماج اور معاشرہ میں کوئی بگاڑ نہ آئے۔ جب ہم اس مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے تو لائبریری کا نصب العین خود بخود پورا ہو جائے گا۔ لائبریریاں صرف کتابیں جمع کرنے کی جگہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ سماج اور معاشرہ کی درسگاہ ہوتی ہیں جہاں انسانیت کا پاٹھ پڑھایا جاتا ہے، فرقہ وارانہ خیرسگالی کا درس دیا جاتا ہے، ایک دوسرے کی عزت کرنا سکھایاجاتا ہے، نئی نسل کی ذہن سازی کی جاتی ہے، نئے حقائق کی تلاش کی جاتی ہے اور اس کی روشنی میں سماج میں پھیلی برائیوں کا مداوا کیا جاتا ہے۔ تاریخ بھی اُنہی قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے عِلمی سرمائے کی حِفاظت کرنا جانتی ہیں۔ کتابی کلچر کو بڑھانے کے لیے معاشرہ میں لائبریریوں کی ضرورت ہے۔کتاب پڑھنے سے جہاں ذہن کھلتا ہے فکر و خیال نکھرتے ہیں وہیں، کتاب، زندگی کے نشیب و فراز کی بہترین مددگار بھی ہوتی ہے۔ خدا بخش لائبریری کا موٹو (Motto)ہے ’’کتاب بہترین دوست ہے، ساتھی ہے‘‘۔اس لئے ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ لائبریریوں کو فروغ دیں اور اس میں رکھی کتابوں کے تحفظ اور اس میں محفوظ علم کے پھیلاؤ پر خصوصی دھیان دیں تاکہ آنے والی نسل اس نعمت سے محروم نہ رہ سکے۔
پروفیسر محمد شریف، پرنسپل لا کالج ، اور ڈاکٹر عمر اشرف، شعبۂ تاریخ، جامعہ ملیہ، دہلی، حال نہرو میموریل میوزم، نے بھی پروگرام میں شرکت کرکے لائبریری کی اہمیت اور افادیت پر طلبہ کو اپنے افکار سے مستفیض کیا۔ لائبریری اسٹاف ڈاکٹر سید مسعود حسن، ڈاکٹر نور الدین اور جناب افروز سٓمد نے بھی پریزرویشن (preservation)کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پرروشنی ڈالی اور پروگرام کے مباحث میں حصہ لیا۔
اس تربیتی پروگرام کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے ڈائریکٹر صاحبہ نے فرمایا کہ اس تربیتی پروگرام میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، انھیں عملی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ کوئی بھی لائبریری اسی وقت اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتی ہے جب ہم اسے سماج سے جوڑ دیتے ہیں۔ لائبریری کا ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ ایک خوشگوار سماج کی تشکیل کی جائے۔ اس کے لئے جو اصول بتائے گئے ہیں، اسے ہم نے اگر اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیا تو سچ مانئے کامیابی خود بخود سر جھکائے کھڑی ہوگی۔