تاثیر،۲۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
آخر وہی ہونے لگا، جس کا اندیشہ تھا۔منگل (19 دسمبر) کو دہلی میں اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘ کی میٹنگ ہوئی اور اس بات پر اتفاق ہواکہ اس ماہ کے آخر تک سیٹوں کی تقسیم کا معاہدہ طے پا جائے گا، لیکن اگلے ہی دن سے جوتیوں میں دال بنٹنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عام آدمی پارٹی، جو پنجاب میں بر سر اقتدار ہے، کا کہنا ہے کہ وہ تمام 13 سیٹوں پر اکیلے الیکشن لڑے گی۔ کچھ دن پہلے اروند کیجریوال نے بھی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ عام آدمی پارٹی کو پنجاب کی تمام 13 سیٹوں پر جیت دلائیں۔ اب عام آدمی پارٹی کے دوسرے لیڈر بھی ایسی ہی بات کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ حتمی نہیں ہے، لیکن عام آدمی پارٹی کے اس موقف کو کانگریس پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کے طور پر ضرور ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بنگال، بہار، یوپی، دہلی، پنجاب اور مہاراشٹر میں لوک سبھا کی کل 230 سیٹیں ہیں۔ ان ریاستوں میں کانگریس کو خاطر خواہ سیٹیں نہیں ملتی ہیں تو انتخابات کے بعد کی صورتحال کانگریس کے لئے اچھی نہیں ہوگی۔ شمال میں صرف ایک ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے۔ کانگریس کو جنوب کی ریاستوں سے زیادہ امید ہے۔ اس وقت کانگریس شمالی بھارت میں صرف ہماچل میں اقتدار میں ہے، جس کی راجیہ سبھا کی 4 نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی حکومت صرف جنوبی ہند کے کرناٹک اور تلنگانہ میں ہے۔ ایسے میں اس کی توقعات بھی شمالی ہند سے زیادہ جنوبی ہند سے ہیں۔ تمل ناڈو میں وہ اتحادی ڈی ایم کے پر منحصر ہے، لیکن کیرالہ میں وہ نسبتاََ اچھی پوزیشن میں ہے۔ تاہم آندھرا پردیش میں بھی اس کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ 28 اپوزیشن جماعتوں کے’’ انڈیا‘‘ اتحاد کی دہلی میں ہوئی چوتھی میٹنگ میں سیٹوں کی تقسیم کا کام جلد از جلد مکمل کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ ٹی ایم سی جیسی جماعتوں نے 31 دسمبر تک سیٹوں کی تقسیم کی بات کہی تھی۔ میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ 15 جنوری تک بیشتر ریاستوں میں سیٹوں کی تقسیم کردی جائے گی۔ظاہر ہے سیٹوں کی تقسیم کے سلسلے میں پہلے ریاستی سطح پر پارٹیوں کے درمیان بات چیت ہوگی۔حالانکہ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ خاص طور پر کم از کم نصف درجن ریاستیں ایسی ہیں جہاں سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ سب سے بڑا کنفیوژن کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان دہلی اورپنجاب کو لے کر ہے۔ کانگریس قیادت اور اروند کیجریوال ایک ساتھ نظر آرہے ہیں، لیکن دونوں پارٹیوں کے ریاستی قائدین ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔فی الحال یہ بات سننے میں آ رہی ہے کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان دہلی میں سات سیٹوں پر اتحاد ضرور ہو گا اور اگر پنجاب میں بی جے پی اور اکالی دل کے درمیان اتحاد ہوتا ہے تو عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان بھی اتحاد یقینی ہے۔ دہلی کی سات میں سے چار سیٹوں پر عام آدمی پارٹی اور تین سیٹوں پر کانگریس الیکشن لڑ سکتی ہے۔ دونوں پارٹیاں پنجاب اور چندی گڑھ کی 14 سیٹوں کو نصف میں تقسیم کر سکتی ہیں۔ عام آدمی پارٹی گجرات، گوا اور ہریانہ میں بھی کانگریس سے سیٹوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ سب سے بڑی ریاست یوپی میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سماج وادی پارٹی کانگریس کے لیے کتنی سیٹیں چھوڑے گی۔ تازہ ترین موڑ یہ ہے کہ یوپی کانگریس کے کچھ رہنما بی ایس پی کو بھارت اتحاد میں شامل کرنا چاہتے ہیں، لیکن منگل کو منعقدبھارت اتحاد کی میٹنگ میں سماج وادی پارٹی کے رہنما رام گوپال یادو نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ ایس پی کو بی ایس پی کی حمایت قبول نہیں ہے۔ ذرائع کی مانیں تو کانگریس کی نظریں یوپی میں ایس پی کے ساتھ اتحاد میں 80 میں سے 20 سیٹوں پر ہیں۔
اِدھربہار میں کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں ہے یہاں 40 سیٹوں کو لے کر جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے درمیان سیٹوں کے انتخاب کو لے کر تصویر واضح نہیں ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ دونوں بڑی پارٹیاں 15-15 سیٹوں پر لڑ سکتی ہیں۔ جہاں سی پی آئی(ایم ایل) اور سی پی آئی نے زیادہ سیٹوں کے لیے دباؤ ڈالا، وہیں کانگریس کو صرف پانچ سیٹوں سے مطمئن ہونا پڑ سکتا ہے۔ بنگال میں بائیں بازو کی پارٹی اور ممتا کا ایک ساتھ الیکشن لڑنا ناممکن ہے۔ ایسی صورتحال میں کانگریس کے سامنے مخمصہ یہ ہے کہ وہ بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد جاری رکھے یا ٹی ایم سی سے ہاتھ ملائے۔ دونوں پارٹیاں کانگریس کو بنگال میں اپنے قدم جمانے کی اجازت نہیں دینا چاہتی ہیں۔ ایسے میں کانگریس بنگال میں پانچ سات سیٹوں سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مہاراشٹر میں شیو سینا اور این سی پی کے درمیان تقسیم کے بعد، کانگریس کو لگتا ہے کہ وہ بڑے بھائی کے کردار میں رہے گی، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار اپنا حصہ کم کریں گے۔ مجموعی طور پر یہاں تینوں پارٹیاں 48 سیٹوں کو برابر برابر تقسیم کر سکتی ہیں۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور جھارکھنڈ میں جے ایم ایم کے ساتھ کانگریس کے اتحاد میں کوئی خاص پیچیدگی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر ریاستوں میں کانگریس کا براہ راست مقابلہ بی جے پی سے ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ’’انڈیا‘‘ اتحاد سے وابستہ جماعتیں سیٹوں کا مسئلہ کیسے اور کب تک حل کرتی ہیں۔ بیشتر پارٹیاں چاہتی ہیں کہ اتحاد میں جتنے ایم پیز ہیں سب کو ٹکٹ مل جائے۔ علاقائی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ کانگریس ان سے سیٹوں کا مطالبہ کرنے کے بجائے ان ریاستوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرے جہاں اس کا براہ راست مقابلہ بی جے پی سے ہے، لیکن یہ سبھی جانتے ہیں کہ صرف اپنے اپنے فائدے کی بنیاد پر سیٹوں کی قابل قبول تقسیم ممکن نہیں ہے۔اتحاد کے وقار کے مد نظر تمام پارٹیوں کے لئے ایثار و قربانی بے حد ضروری ہے۔
*****

