آزادی کے نایاب دیوانے تھے نیتا جی: ڈاکٹر اکھلیش

تاثیر،۲۳ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ 23 جنوری، :24

نیتا جی سبھاش چندر بوس آزادی کے دیوانے تھے، جن کا نعرہ ’’تم مجھے خون دومیں تمہیں آزادی دوں گا‘‘ آج بھی لوگوں کو جوش سے بھر دیتا ہے۔ آئی سی ایس امتحان پاس کرنے کے باوجود انہوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ کر آزادی کی جنگ لڑنے کا انتخاب کیا۔ ملک اور کانگریس پارٹی میں ان کی مقبولیت کی مثال آج بھی دی جاتی ہے کیونکہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود وہ 1938 اور 1939 میں دو بار انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کی مقبولیت کو دیکھ کر مہاتما گاندھی نے انہیں نیتا جی کا خطاب دیا۔ بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے یہ باتیں نیتا جی کے 127ویں یوم پیدائش کے موقع پر بھیجے گئے اپنے پیغام میں کہیں۔ واضح ہو کہ نیتا جی کے یوم پیدائش کو پورے ملک میں’’پراکرم دیوس‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ قوم کے تئیں نیتا جی کی لگن بے مثال تھی اور یہ بات آج بھی تصور سے باہرلگتی  ہے کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریزوں سے زبردستی آزادی چھیننے کے لیے آزاد ہند فوج کھڑی کر دی۔
پراکرم دیوس کے موقع پر نیتا جی کا یوم پیدائش منگل کو پارٹی ہیڈکوارٹر صداقت آشرم میں منایا گیا جہاں کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے ان کے مجسمہ پر گل پوشی کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ونود شرما، اسیت ناتھ تیواری، ریتا سنگھ، گیان رنجن، اروند لال رجک، سدھارتھ چھتریہ، سدھا مشرا، روی گولڈن، مرنل انامے، وملیش تیواری، خوشبو کماری، سودے شرما، یشونت کمار چمن، شہنشاہ، مہر جھا، ڈاکٹر گوتم کمار، سنیل کمار سمن وغیرہ شامل تھے۔