بزم فگار کا 30واں مشاعرہ بیاد گار امیرخسرو و تعزیتی جلسہ,منور رانا,ڈاکٹر امام اعظم: مہمانان خصوصی ڈاکٹر مختار احمد فردین، صدر آل انڈیا اردو ماس نےنیی کمیٹی اردو اکیڈمی ناءیب صدر اور ٹیم کو مبارکباد دی، ڈاکٹر نوشاد عالم ممبر اردو اکیڈمی مغربی بنگال کا خطاب

تاثیر،۲۳ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

     خصوصی رپورٹ/  کولکاتا ( تاثیر نیوز سروس ) بزم فگار عظیم آبادی کے زیراہتمام 30واں  مشاعرہ و تعزیتی جلسہ منور رانا،ڈاکٹر امام اعظم بمقام 33/نمبر شیکسپیئر سرانی  کلکتہ 700017 سید عرفان شیر کیمونٹی ہال منعقد کیا گیا جسکی صدارت کہنہ مشق استاذ شاعر جناب حلیم صابر نے کی، نظامت کے فرائض مشترکہ طور پر رئیس اعظم حیدری (کولکاتا)اور پرویز رضاء نے بحسن  و خوبی انجام دئے ۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے   تجزیہ نگار و اکزیکیوٹیو ایڈیٹر تاثیر رانچی ایذیشن ڈاکٹر مختار  احمد فردین حیدرآباد نے بزم صدر نامور شاعر رءیس اعظم حیدری صاحب کی ان کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں آج کی محفل میں شرکت کے لیے تشریف لاءے تمام ذی وقار شعراء کرام اور شاعرات کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آجکی محفل میں ہر ذرہ آفتاب و انمول رتن ہیں اور آپ سب کے کلام قابلِ داد و تحسین ہے، اردو اکیڈمی مغربی بنگال کے لئے ناءیب صدر اردو اکیڈمی ندیم الحق صاحب کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اردو زبان وادب اور تعلیمی خدمات انجام دینے والے حضرات سے گذارش کی کہ آپ اردو اکیڈمی کے کاموں پر مثبت سوچ وفکر اور نظریہ پیش کریں، ندیم الحق صاحب ممبر راجیہ سبھا نے کہا کہ اکیڈمی کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے اپنے مفید مشورہ اور اردو زبان وادب کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے لئے ہر ایک محبان اردو آءیں انکا استقبال ہے، مثبت سوچ رکھیں، تعمیری فکری تنقید فروغ اردو زبان وادب میں اہم کردار ادا کرتا ہے اسلیے منفی سوچ وفکر سے دور رہیں اپنے نماءیندہ اکیڈمی کو مساءیل سے با خبر کریں، رءیس اعظم حیدری صاحب کا یہ پیلٹ فارم بھی بہتر ہے
 اور ڈاکٹر  نوشاد عالم  ممبر ( مغربی بنگال اردو اکیڈمی )  سماجی کارکن فیصل علی، آتش رضاء  شریکِ بزم رہے ۔ مشاعر ے کا آغاز رات 7.30بجے رئیس اعظم حیدری کی تلاوت قران پاک سے ہوا اس کےبعد یوسف اختر نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا اور فگار عظیم آبادی کی غزل سے باضابطہ مشاعرہ کا آغاز ہوا، بعدہ  صدر محفل حلیم صابر نے امیر خسرو کے تعلق سے گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ امیر خسرو کا  اصل نام ابوالحسن یمین الدین  تھا وہ 1253ء میں ایٹہ ضلع  کے قصبہ پٹیالی میں پیدا ہوئے ان کے والد امیر سیف الدین چنگیزی کے فتنہ کے دوران تاجکستان  اور ازبکستان کی سرحد پر واقع مقام کش (موجودہ شہر سبز )سے ہجرت  کر کے ہندوستان آنے اور ایک ہندوستانی  امیر عمادالمک کی بیٹی  سے شادی  کر لی، خسرو ان کی تیسری اولاد تھے، جب خسرو نے ہوش سنبھالا تو ان کے والد نے ان کو خوشنویسی کی مشق  کے لئے اپنے وقت کے مشہور خطاط سعداللہ کے حوالہ  کر دیا  لیکن خسرو  کو پڑھنے سے زیا دہ  شعر گوئی کا شوق تھا، وہ وصیلوں پر شعر لکھا کرتے تھے شروع میں  خسرو ،،سلطانی،، تخلص کرتے تھے بعد میں ،،خسرو،، تخلص اختیار کیا، خسرو جب  جوانی کی عمر کو پہنچے تو غیاث الدین بلبن ملک کا بادشاہ  اور اس کا بھتیجا کشلو خان  عرف ملک جھنجو امرا میں شامل تھا وہ اپنی جود و سخا  کے لئے مشہور اور اپنے  وقت کا حاتم  کہلا تا تھا، اس نے خسرو کی شاعری سے متاثر ہو کر اپنے درباریوں میں شامل کرلئے، اتفاق سےایک دن بلبن کا بیٹا بغرا خان جو سمانہ کا  حاکم تھا محفل میں موجود تھا اس نے خسرو کا کلام سنا تو اتنا خوش  ہوا کہ  بہت سارا خسرو کو انعام دیا، خسرو کے تعلق سے بہت سارا واقعہ ہے، خسرو ریختہ کا شاعر تھا انہوں نے غزلوں کے سا تھ کہہ مکرنیاں  بہت کہے ہیں، نمونہ کے طور پر کچھ اشعار پیش خدمت ہیں ۔
،،زحال مسکیں مکن تغافل دورانیے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں  ندارم اے جاں  نہ لیہو   کا ہے لگائے چھتیاں ۔ ہر چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں  زمہرہ آں مہ  بگشتم  آخر ۔ نہ نیند نیناں  نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے  پتیاں ۔ اسکے بعد مہمانان خصوصی ڈاکٹر مختار احمد فردین (حیدرآباد )نے کہا کہ آج کا مشاعرہ بہت کامیاب  رہا اور بہت عمدہ عمدہ کلام سننے کو ملا اردو کے تعلق  سےبڑا اچھا پروگرام ہو رہا ہے، اس طرح کی محفلوں کا انعقاد ہوتے رہنا چاہئے یہاں آکر مجھے بہت خوشی ہوئی حلیم صابر ایسی مایہ ناز ہستی کا کلام  سننے کا موقعہ ملا اور تمام شعراء و شاعرات کا کلام بڑا عمدہ رہا میں تمام لوگوں کا اور خاص کر رئیس اعظم حیدری صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ڈاکٹر نوشاد عالم نے کہا اس مشاعرہ میں اگر میں نہیں آتا تو آپ لوگوں کابہترین کلام سے  محظوظ نہیں ہوپاتا، میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی کا ایک  ممبر ہوں اگر آپلوگوں کو اردو کی بقا اور ترقی کے لئے کچھ مشورہ دینا ہو تو آپ لوگ تحریری طور پر اکیڈمی کے نام  پیش کریں، فیس بک اور واٹس ایپ بر لکھنے سے کیا فائدہ ہے کچھ فائدہ نہیں ہے  آپ کا جو بھی مشورہ ہوگا انشاءاللہ ہملوگ اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرینگے، اس  سے پہلے  اکیڈمی نے علاقائی طور پر  ہر علاقہ  علاقہ میں جیسےمٹیا برج راجہ بازار زکریا اسٹریٹ اور مضا فات میں مشاعرہ کیا  ہے، انشا اللہ کوشش جاری رہیگی، میں رئیس اعظم حیدری کے ساتھ ساتھ تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ جناب فیصل علی نے کہا  میں ایک سما جی کارکن ہوں  بہت سارے پروگراموں میں جاتا رہتا ہوں مگر آج اردو محفل میں آکر مجھے بہت خوشی ہوئی، آپ لوگوں کی شاعری سن کر بہت محظوظ ہوا، میں ایک با ت کہونگا  کہ اکاڈمی کا مشاعرہ  ہر محلہ میں اور ہر ماہ ہونا چاہئے تاکہ اردو بولنے والے اپنے بچوں کو اردو پڑھانے میں دلچسپی دکھائیں، مشورہ کے طور ایک بات کہنا چاہونگا کہ کسی کے نام میں ایک مشاعرہ میں اتنا روپیہ نہیں خرچ کر کے اسی کو سال میں بارہ مشاعرہ کرایا جائے تو بہتر ہوگا، میں رئیس اعظم حیدری اور تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں خدا حافظ، جناب حلیم صابر نے تینوں مرحومین امیر خسرو، منور رانا، ڈاکٹر امام اعظم کے حق میں دعائے مغفرت کی اور جناب اشرف یعقوبی نے جمیل حیدر شاد کے حق میں دعائے صحت کی، اللہ انہیں شفا کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے آمین اور ان کےہدیہء تشکر کے بعد مشاعرہ بحسن خوبی  رات 10.30بجے اختتام پزیر ہوا ۔ جن شعراء و شاعرات نے اپنے کلام بلاغت سے سامعین کو محظوظ کیا انکے اسم گرامی ہیں صدر مشاعرہ حلیم صابر، آتش رضا، اشرف یعقوبی، رئیس اعظم حیدری، مضطر افتخاری، اسلم اقبال، امتیاز قیصر، آفتاب عالم‌ مٹیا برجی، قمرالدین قمر  ، اشتیاق رہبر، یو سف اختر، پرویز رضا، شمیم ساگر، ڈاکٹر نگار سلطانہ، فوزیہ اختر ردا،  مہمان ڈاکٹر مختار احمد فردین، ڈاکٹر نوشاد عالم، فیصل علی  و دیگر حضرات شریک بزم رہے ۔ نوٹ ۔ آئندہ پروگرام۔ فروری کا تیسرا ہفتہ 18/2/2024منعقد کیا جائیگا ۔ میزبانی  ڈاکٹر نگار ‌سلطانہ نے کی۔
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
بشکریہ بزم فگار: ڈاکٹر ایم اے فردین