دہلی ہائی کورٹ نے بجٹ اجلاس سے معطل بی جے پی ایم ایل اے کی عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا

تاثیر،۲۷فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 27 فروری : دہلی ہائی کورٹ نے دہلی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے لیے معطل کئے گئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سات ممبران اسمبلی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہیجسٹس سبرمنیم پرساد کی بنچ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
ہائی کورٹ نے دوران سماعت کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا رہنے کے دوران استحقاق کمیٹی کو مزید کارروائی جاری نہیں رکھناچاہیے۔ اس سے قبل کی سماعت میں دہلی اسمبلی کی جانب سے وکیل سدھیر نندراجوگ نے کہا تھا کہ معطل ایم ایل اے کے خلاف جاری کارروائی بغیر کسی تاخیر کے ختم ہو جائے گی۔ ان کی معطلی اختلاف کی آواز کو ختم کرنا بالکل نہیں ہے۔ یہ معطلی اپوزیشن ایم ایل اے کی بداخلاقی کے خلاف خود نظم و ضبط کا عمل ہے۔
نندرا جوگ نے سات ارکان اسمبلی کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمبلی اپنے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے صوابدید کا استعمال کرتی ہے۔ اگر ایم ایل اے نے لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھ کر معافی مانگی ہے تو انہیں اسمبلی کو بھی ایسا ہی خط لکھنا چاہئے۔ اس پر ہائی کورٹ نے ایم ایل اے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل جینت مہتا سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو حل کریں اور اسمبلی کو احترام کے ساتھ خط لکھیں۔
قابل ذکر ہے کہ 15فروری کو دہلی اسمبلی میں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کے خطاب کے دوران مبینہ طور پر رخنہ اندازی کرنے کے الزام میں بی جے پی ممبران اسمبلی موہن سنگھ بشٹ، اجے مہاور، او پی شرما، ابھے ورما، انل واجپئی، جتیندر مہاجن اور وجیندر گپتا کو معطل کر دیا گیا تھا۔