پٹنہ میں عظیم الشان خواتین مشاعرہ و کوی سمیلن7مارچ کو۔
پٹنہ 2مارچ2024…….میں لکھنؤ میں پیدا ہوئی وہیں تعلیم و تربیت پائی۔میری والدہ اردو میں پی ایچ ڈی ہیں اور میرے والد کی وفات بہت پہلے ہو گئی تھی ۔ میرے والدین شاعر نہیں لیکن باذوق، شاعری پسند کرنے والے لوگ ضرور تھے۔ یہ باتیں شاعرہ حنا رضوی حیدر نے پی ایل ایف نمائندہ سے گفتگو کے دوران کہیں۔ قابل ذکر ہے کہ راجدھانی پٹنہ میں واقع رویندر بھون میں عظیم الشان خواتین مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد 7مارچ 2024کو ہوگا۔ عظیم الشان خواتین مشاعرہ و کوی سمیلن عالمی یوم خواتین کے موقع پر پٹنہ لیٹریری فیسٹیول کے زیراہتمام اور روبن میموریل اسپتال و شیتل ڈیولپرس کے اشتراک سے انعقاد کیا جا رہا ہے۔ شعروشاعری کے آغاز کے تعلق سے شاعرہ حنا رضوی حیدر نے کہا کہ شاعری میں نے بچپن سے کی ہے جس کو آپ شاعری کہہ سکتے ہیں لیکن میں اس کو تک بندی کہتی ہوں۔ میرے نانا چودھری عترت حسین رضوی صاحب اور میرے مامو چودھری قمر حسین رضوی صاحب، صاحبِ دیوان شاعر تھے حالانکہ مجھے ان کی اصلاح نہیں ملی کیونکہ ان دونوں کا انتقال بہت پہلے ہو چکا تھا، نانا کا میری پیدائش سے پہلے اور ماموں کا میری باقاعدہ شاعری شروع ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ انہوں نے شاعری کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ (Turning point) کے حوالے سے گفتگو کے درمیان کہا کہ فیس بک پر ایک پروگرام مخاطب تنظیم کا دیکھا اور میں نے اس کی نشست میں حصہ لیا۔ میں نے کبھی چاہا ہی نہیں تھا کہ میں اسٹیج پر آؤں لیکن چھوٹی چھوٹی نشستوں میں جانا ضرور پسند تھا۔پھر وہیں سے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔ شاعرہ حنا رضوی نے پٹنہ کے مشاعرہ میں شرکت کو لیکر کہا کہ پٹنہ میں کیونکہ ان کے شوہر جج کہ عہدے پر فائز ہیں اس لیے میری رہائش پٹنہ میں ہی ہے تو یہاں پر جو بھی مشاعرے ہوتے ہیں اگر وہاں مجھے بلایا جاتا ہے تو میں اپنی حد بھر کوشش کرتی ہوں کہ میں پہنچ پاؤں ۔ویسے میں زیادہ مشاعروں میں نہیں جاتی بس کبھی کبھی ہی شرکت کرتی ہوں۔پٹنہ پی ایل ایف کے مشاعرہ میں شامل ہونے کو لیکر انہوں نے کہا کہ پی ایل ایف کے گزشتہ سال ہوئے مشاعرے میں نے شرکت کی تھی۔شاعرہ کا مشہور اور پسندیدہ شعرکے چار مصرعے
”آندھیوں کو یہ گماں ہے کہ بجھا دیں گی چراغ
اور چراغوں کو یہ ضد ہے کہ اجالا ہو جائے
ٹوٹ سکتا ہے کسی پل بھی سمندر کا غرور
منہ اگر موڑ لیں دریا تو یہ پیاسا ہو جائے۔”
شاعر یا شاعرہ کو اپنا استاد تسلیم کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ استاد تو میرا کوئی نہیں رہا لیکن اپنے شوہر جو خود بھی تھوڑی بہت شاعری کرتے ہیں ان سے اور کچھ شاعر دوستوں سے تبصرہ ضرور کرتی ہوں اپنے کلام کو لے کر ،اگر وہ پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہتر ہے تو اطمینان کر لیتی ہوں۔ باقی بچپن سے کیونکہ منقبت اور سلام میں نے بہت کہے ہیں، اور مرثیہ پڑھنے اور سننے کا مجھے شوق رہا ہے تو میں اپنا پہلا استاد میر انیس کو مانتی ہوں۔ خواتین مشاعرہ میں شرکت کو لیکر انہوں نے کہا کہ پی ایل ایف ادبی تنظیم کا انتخاب بھی بہت خوبصورت ہے اور مشاعرے بھی بہترین کراتی ہے ۔تو مجھے خوشی ہے کہ میں اس مشاعرے کاحصہ ہوں اور بے حد شکریہ ادا کرتی ہوں خورشید احمد بھائی کا کہ انہوں نے مجھ کو اس ایونٹ میں شرکت کا موقع دیا۔انہوں نے پی ایل ایف کی ٹیم اور بانی و سیکرٹری خورشید احمد کو مبارک باد پیش کیں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اب تک درجنوں مشاعروں میں شرکت کی ہے نیشنل اور انٹرنیشنل۔ انٹرنیشنل مشاعروں میں دبئی کے مشاعرے میں شرکت کی ہے اور آن لائن کئی انٹرنیشنل مشاعروں میں بھی میری شرکت رہی ہے ۔ باقی ہندوستان میں ریختہ، انداز بیاں اور، بہار دوس پٹنہ ، لکھنو، دہلی، اندور، بھوپال، حیدراباد کے کئی اہم مشاعروں میں شرکت کی ہے۔

