تاثیر،۱مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
کے ایم سی لینگویج یونیورسٹی میں” سہج یوگ مہا یوگ ” کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد
لکھنئو،۱،مارچ ۲۰۲۴ ،آج خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے اٹل آڈیٹوریم میںوائس چانسلر پروفیسر این ۔بی سنگھ کی زیر نگرانی “سہج یوگ مہا یوگ ” کے عنوان پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ اس اہم پروگرام کی مہمان خصوصی محترمہ رنجن یادو نے سہج یوگ کی اہمیت اور اس کے طریقہ کار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہج یوگ ذہنی تندرستی اور خود شناسی کے لئے بہت ضروری ہے،اس کے ذریعے سے خود کوجاننے اور اپنے اندرون کے جوہر کو پہچاننے میں بڑی حد تک مدد ملتی ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ سہج یوگا میں آسان حالت میں بیٹھ کر مراقبہ کی صورت میں کیا جاتا ہےاور مراقبہ کے دوران جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں وہ اپنے سر سے ہاتھوں تک ٹھنڈی ہوا محسوس کرتے ہیں اور اس کے اندر ایک ترنگ اٹھتی ہے اور یہ ترنگ انسانوں کے جسمانی ،ذہنی اور جذباتی مسائل کا علاج کرتی ہیں۔یونیورسٹی کے پراکٹر ڈاکٹر نیرج شکلانے اس پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سہج یوگ معاصر عہد کی بھاگتی ہوئی زندگی میں امرت کی طرح ہے کیونکہ آج کے صارفی معاشرے میں سب کچھ ہونے کے باوجود سکون اور اطمینان نہیں ہے اسو سہج یوگا کے ذریعے سے ہم حاصل کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر جہاں آرا زیدی نے بھی سہج یوگ کی اہمیت اور اس کی افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نرملا دیوی نہ صرف اس کی دریافت کی بلکہ اس کو ملک کے گوشے گوشے میں عام لوگوں تک پہنچانے کی بھی کوشش کی اور آج کا پروگرام اسی کا حصہ ہے۔پروگرام کے آخر میںپرمود سنگھ نے اس یوگ کی عملی مشق کرائی اوراس طرح سہج یوگا کے ذریعے زندگی کو سادہ اور تناؤ سے پاک بنانے کا تجربہ حاصل کیا۔ اس پروگرام میں مختلف شعبوں کے اساتذہ کے ساتھ کثیر تعداد میں طلبہ نے حصہ لیا ۔اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں سہج یوگا فیملی کے ممبران ومل سنہا، ونود راوت، چیتن اروڑہ، یوگیش دویدی، دیویندر راوت، شریانش نگم اور انکیتا رانا وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا اور شعبہ ہندی کی استاذ ڈاکٹرآرادھنا اؤستھانہ نے آئے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

